ربیع الثانی 1448 ہجری کے چاند سے متعلق سپارکو کی پیشگوئی سامنے آگئی نئے قمری ماہ کے آغاز کے حوالے سے اہم فلکیاتی تفصیلات جاری کردی گئی ہیں ربیع الثانی کا حتمی آغاز چاند کی شرعی رویت اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے سے ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے فلکیاتی حسابات کے مطابق ربیع الثانی 1448 ہجری کے نئے چاند کی پیدائش 11 ستمبر کو صبح 8 بج کر 27 منٹ پر متوقع ہے۔ پاکستان میٹرو لوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے احتمالی قمری جدول میں بھی نئے چاند کی پیدائش کا وقت 11 ستمبر صبح 8:27 بجے درج کیا گیا ہے۔
فلکیاتی حسابات کے مطابق چاند کی پیدائش کے بعد 12 ستمبر کی شام تک ہلال کی عمر میں اضافہ ہوگا جس کے باعث ملک کے بعض علاقوں میں چاند نظر آنے کے امکانات پیدا ہوں گے تاہم مختلف علاقوں میں ہلال کی رؤیت سورج اور چاند کے غروب ہونے کے اوقات چاند کی بلندی اور افق پر اس کی موجودگی کے دورانیے کے باعث مختلف ہوسکتی ہے۔
اسلام آباد کے لیے دستیاب فلکیاتی اعداد و شمار کے مطابق 11 ستمبر کی شام نئے چاند کی رؤیت ممکن نہیں کیونکہ اس وقت چاند کی عمر تقریباً 10 گھنٹے اور افق پر اس کی بلندی انتہائی کم ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:کلٹس گاڑی خریدنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری، بنک کی نئی آفر آ گئی
لاہور میں بھی 11 ستمبر کی شام ہلال کی رؤیت کے امکانات نہیں ہیں جبکہ کراچی میں چاند غروب آفتاب کے چند منٹ بعد غروب ہوگا، اس لیے وہاں بھی 11 ستمبر کو رؤیت ممکن نہیں ہوگی۔
اسی وجہ سے اصل توجہ 12 ستمبر کی شام پر ہوگی۔ مختلف فلکیاتی حسابات کے مطابق اس روز پاکستان کے بعض علاقوں بالخصوص ساحلی علاقوں میں ہلال کی رؤیت کے امکانات نسبتاً بہتر ہوسکتے ہیں، جبکہ دیگر علاقوں میں ہلال انتہائی باریک ہونے کے باعث دوربین یا دیگر بصری آلات کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
قمری مہینے کے آغاز کے بارے میں فلکیاتی حسابات ایک ممکنہ تاریخ ضرور بتاتے ہیں تاہم پاکستان میں اسلامی مہینے کا حتمی آغاز صرف حسابات کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی ملک کے مختلف حصوں سے موصول ہونے والی شہادتوں کا جائزہ لے کر فیصلہ کرتی ہے۔
اگر 12 ستمبر کی شام چاند نظر آنے کی معتبر شہادتیں موصول ہوگئیں اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے ان کی تصدیق کردی تو ربیع الثانی کا آغاز اس کے بعد ہوگا۔ بصورت دیگر موجودہ قمری ماہ کے 30 دن مکمل ہونے کے بعد اگلے روز ربیع الثانی شروع ہوگا۔
دستیاب پاکستانی قمری کیلنڈروں میں فلکیاتی حساب کی بنیاد پر یکم ربیع الثانی 1448 ہجری کے لیے 13 ستمبر کی تاریخ بھی درج ہے۔ تاہم یہ تاریخ حتمی شرعی اعلان نہیں بلکہ حسابی/احتمالی تاریخ ہے۔
ربیع الثانی اسلامی ہجری سال کا چوتھا مہینہ ہے۔ اسے ربیع الآخر بھی کہا جاتا ہے۔ لفظ ربیع کا تعلق بہار سے ہے، جبکہ ثانی یا آخر دوسرے کی طرف اشارہ کرتا ہے، یعنی ربیع الاول کے بعد آنے والا مہینہ۔
اسلامی تاریخ میں ربیع الثانی بھی دیگر قمری مہینوں کی طرح اپنی مخصوص اہمیت رکھتا ہے۔ اس مہینے میں بھی مسلمان معمول کی عبادات، نوافل، اذکار، تلاوت قرآن اور دعاؤں کا اہتمام کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ قمری مہینوں کا آغاز چاند کی رویت سے منسلک ہونے کے باعث ہر سال شمسی کیلنڈر میں مختلف تاریخوں پر آتا ہے۔ اسی لیے فلکیاتی اداروں کی جانب سے پہلے سے جاری کیے گئے حسابات کے باوجود پاکستان میں کسی بھی اسلامی مہینے کی حتمی تاریخ کا اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی ہی کرتی ہے۔
اس طرح ربیع الثانی 1448 ہجری کے حوالے سے 11 ستمبر کو نئے چاند کی پیدائش، 12 ستمبر کی شام ممکنہ رؤیت اور اس کے بعد مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے حتمی فیصلے پر سب کی نظریں ہوں گی۔