وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے مجوزہ اسلام آباد مارچ پر خبردار کیا ہے کہ حکومت سختی نہیں چاہتی لیکن ریاست ہر صورت اپنی رِٹ قائم کرے گی۔
انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت سے 700 ارب روپے کے فنڈز کا حساب مانگتے ہوئے دھرنوں کے بجائے کارکردگی پر زور دیا ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے مجوزہ احتجاج کے دوران حکومت قانون کی عملداری کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا مکمل اختیار رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بالکل نہیں چاہتی کہ اپوزیشن جماعت کو دوبارہ اسلام آباد آمد پر کسی قسم کی سختی کا نشانہ بنایا جائے یا ’کان پکڑ کر سمجھانے‘ جیسے رویے پر مجبور ہونا پڑے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ 27 ستمبر کی تاریخ آنے پر سب پر واضح ہو جائے گا کہ ریاست اپنی رِٹ کس طرح قائم کرتی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی اور فنڈز پر سوالات
وفاقی وزیر مملکت نے صوبائی حکومت کی ترجیحات کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے وزیراعظم کی زیرِ صدارت ہونے والے اہم سہ ماہی اجلاسوں میں شرکت سے تو گریز کرتے ہیں، لیکن جب این ایف سی ایوارڈ میں حصہ بڑھانے اور فنڈز کے حصول کی بات آتی ہے تو انہیں فوراً وفاق یاد آ جاتا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ موجودہ حکومت کو اب تک این ایف سی کی مد میں 700 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس خطیر رقم کا مکمل حساب دینا صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ کے پی حکومت سیاسی دھرنوں اور مارچ کی منصوبہ بندی کرنے کے بجائے ان فنڈز کے درست استعمال اور عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کرے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کی جانب سے حالیہ دنوں میں حکومت مخالف مہم میں تیزی لائی گئی ہے اور 27 ستمبر کو اسلام آباد میں ایک بڑے احتجاجی مارچ کی کال دی گئی ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کے درمیان انتظامی اور مالیاتی امور پر مسلسل تناؤ پایا جاتا ہے۔
کے پی حکومت وفاق پر فنڈز روکے جانے کا الزام عائد کرتی رہی ہے، جبکہ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے کو اس کا جائز حق دیا جا چکا ہے لیکن صوبائی وسائل کو سیاسی مہم جوئی اور احتجاجوں پر ضائع کیا جا رہا ہے۔
طلال چودھری کا یہ بیان وفاقی حکومت کی اس سخت حکمت عملی کا غماز ہے جو وہ 27 ستمبر کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے تیار کر چکی ہے۔
حکومت کی جانب سے ’رِٹ قائم کرنے‘ اور ’کان پکڑ کر سمجھانے‘ جیسی اصطلاحات کا استعمال ظاہر کرتا ہے کہ وفاق اس بار کسی بھی قسم کی سیاسی درگزر کے موڈ میں نہیں ہے۔
دوسری جانب، 700 ارب روپے کے فنڈز کا بیانیہ ترتیب دے کر وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے عوام کی توجہ صوبائی حکومت کی معاشی کارکردگی کی جانب موڑنے کی کوشش کی ہے۔
اگر دونوں فریقین نے لچک کا مظاہرہ نہ کیا تو 27 ستمبر کو وفاق اور صوبے کے درمیان ایک بڑا سیاسی اور انتظامی تصادم دیکھنے کو مل سکتا ہے، جو ملکی معیشت اور سکیورٹی کے لیے نیک شگون نہیں ہوگا۔