Skip to content
کراچی کی صورتحال تشویشناک ،انتظامی امور بہتر بنانے کیلئے نئے یونٹس ضروری ہیں ،علی خورشیدی
Home - آزاد سیاست - کراچی کی صورتحال تشویشناک ،انتظامی امور بہتر بنانے کیلئے نئے یونٹس ضروری ہیں ،علی خورشیدی
اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی نے کہا ہے کہ انتظامی یونٹس بنانے کی بات جو ان کی جماعت نے 12 سال پہلے کی تھی اب پورے ملک میں زیر بحث ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج پاکستان بھر میں انتظامی یونٹس کے قیام پر بات ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں دی جانے والی اس تجویز کو اب زیادہ وسیع سطح پر سمجھا جا رہا ہے۔
12 سال پرانی بات
علی خورشیدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی یونٹس بنانے کی ضرورت کی بات ان کی جانب سے کئی سال پہلے کی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اس معاملے پر جس انداز میں بات کی گئی تھی اب وہی موضوع ملک بھر میں زیر بحث آ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے نئے یونٹس کے قیام پر سنجیدہ گفتگو کی ضرورت ہے۔
کراچی کی صورتحال
اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی نے کراچی کی موجودہ صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
علی خورشیدی کے مطابق 18 ویں ترمیم سے پہلے کراچی دنیا کے 12 ترقی یافتہ شہروں میں شامل تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب کراچی کا شمار دنیا کے تیسرے بدترین شہروں میں ہوتا ہے۔
علی خورشیدی نے کہا کہ شہر کے مسائل صرف انفرا سٹرکچر تک محدود نہیں رہے۔ ان کے مطابق کراچی کی معیشت بھی متاثر ہوئی ہے۔
معیشت پر تشویش
علی خورشیدی نے گفتگو میں کہا کہ معیشت سمیت مختلف شعبوں کی صورتحال خراب کر دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں صرف بنیادی ڈھانچے کو نقصان نہیں پہنچ رہا بلکہ شہر کی معاشی سرگرمیوں کو بھی متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کراچی کے انتظامی اور معاشی مسائل کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا معاملہ قرار دیتے ہوئے بہتر انتظامی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔
علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق بحث اب صرف کسی ایک علاقے یا جماعت تک محدود نہیں رہی۔
ان کے مطابق پورا پاکستان اس معاملے پر گفتگو کر رہا ہے اور 12 سال پہلے کی جانے والی بات اب وسیع قومی بحث کا حصہ بن چکی ہے۔