مکہ دفاعی معاہدہ عملی مرحلے میں داخل، سیکرٹریٹ کے قیام پر اہم پیش رفت

مکہ دفاعی معاہدہ عملی مرحلے میں داخل، سیکرٹریٹ کے قیام پر اہم پیش رفت

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون سے متعلق مکہ دفاعی مشترکہ معاہدے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سعودی کابینہ نے معاہدے کے سیکرٹریٹ کے قیام سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا ہے۔

ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت ریاض میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا۔

سیکرٹریٹ کی پیش رفت

اجلاس میں مکہ دفاعی مشترکہ معاہدے کے سیکرٹریٹ کے قیام سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

سیکرٹریٹ کا معاملہ اس معاہدے کو عملی سطح پر آگے بڑھانے کے حوالے سے اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :مکہ دفاعی معاہدہ : ہمارا اتحاد کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے، ترک وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس

کابینہ اجلاس میں سعودی عرب اور اس کے شراکت دار ممالک کے درمیان دفاعی تعاون سے متعلق معاملات بھی زیر بحث آئے۔

تین ممالک کا تعاون

اجلاس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون پر ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا معاملہ اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل رہا۔

اس دوران علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون کو مزید منظم کرنے سے متعلق امور پر توجہ دی گئی۔

سمندری راستے

سعودی کابینہ کے اجلاس میں خطے کی اہم بحری گزرگاہوں کی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔

اجلاس میں آبنائے ہرمز، باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں آزادانہ بحری آمدورفت اور تحفظ کی اہمیت اجاگر کی گئی۔

شرکا نے آبنائے ہرمز میں 28 فروری سے پہلے کی صورتحال بحال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اجلاس میں بحری جہازوں پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بیان کا خیرمقدم بھی کیا گیا۔

علاقائی سلامتی

کابینہ اجلاس میں دفاعی تعاون اور سمندری راستوں کے تحفظ کو علاقائی سلامتی سے جوڑ کر دیکھا گیا۔

 یہ بھی پڑھیں :مکہ معاہدہ خطے میں امن،سلامتی اور خوشحالی کے لیے ہے،وزیراعظم شہباز شریف

مکہ دفاعی معاہدے کے سیکرٹریٹ سے متعلق پیش رفت بھی اسی وسیع علاقائی تناظر میں زیر غور آئی۔

سعودی کابینہ نے اجلاس کے دوران علاقائی اور عالمی صورتحال کا جائزہ بھی لیا۔

اہم پیش رفت

سعودی کابینہ کی جانب سے سیکرٹریٹ کے قیام سے متعلق پیش رفت کا جائزہ اس معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے حوالے سے اہم قدم ہے۔

اس کے ساتھ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے دفاعی تعاون کا معاملہ بھی اجلاس میں زیر بحث آیا۔

یوں اجلاس میں دفاعی تعاون کے ساتھ اہم بحری راستوں کے تحفظ اور علاقائی سلامتی کو بھی نمایاں اہمیت دی گئی۔

editor

Related Articles