پیٹرول پر ریلیف سب کو نہیں ملے گا؟آئی ایم ایف نے حکومت کو نیا فارمو لا بتا دیا

پیٹرول پر ریلیف سب کو نہیں ملے گا؟آئی ایم ایف نے حکومت کو نیا فارمو لا بتا دیا

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی کے تحت جائزے کے مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔ مذاکرات میں معاشی اصلاحات اور پروگرام کے اہداف کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے دورے پر موجود آئی ایم ایف مشن کی سربراہی آئیوا پیٹرووا کر رہی ہیں۔ مشن نے حکومت کے سامنے ایندھن ریلیف سے متعلق اہم تجویز رکھی ہے۔

ایندھن ریلیف

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ایندھن ریلیف صرف مستحق افراد تک محدود رکھنے پر زور دیا ہے۔ یہ تجویز مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث بڑھتے معاشی دباؤ کے تناظر میں دی گئی ہے۔

آئی ایم ایف نے ایندھن پر ریلیف کا فائدہ عام طور پر سب کو دینے کے بجائے مستحق افراد تک پہنچانے کی تجویز دی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران جنگ اگلے سال تک جاری رہی تو حالات مزید بدتر ہوسکتے ہیں، آئی ایم ایف کا انتباہ

ذرائع کے مطابق اس مقصد کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا طریقہ کار استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس سے ریلیف کو مستحق افراد تک محدود رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

مذاکرات شروع

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ای ایف ایف جائزے پر مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔ مشن پروگرام کے تحت مقررہ اہداف پر پاکستان کی پیش رفت کا جائزہ لے رہا ہے۔

مذاکرات میں معاشی پالیسیوں اور اصلاحات سمیت مختلف امور پر بات چیت جاری ہے۔ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے تیسرے جائزے پر بھی بات ہوگی۔

آئی ایم ایف مشن نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے آن لائن ملاقات بھی کی۔ وزیر خزانہ نے مشن کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف مشن چیف کے اعتراضات اور تحفظات کا جواب دیا۔ تاہم ان جوابات کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔

853 ارب کا تضاد

مذاکرات کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے حسابات میں 853 ارب روپے کے شماریاتی تضاد کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے اس تضاد کی وضاحت طلب کی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے نے مسئلہ حل کرنے کے لیے حکومتی اقدامات کی تفصیلات بھی دریافت کی ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :حکومتی معاشی ٹیم اور آئی ایم ایف کےدرمیان مذاکرات آئندہ ہفتے ہونے کا امکان 

یہ معاملہ حکومتی حسابات اور مالیاتی اعداد و شمار کے درمیان موجود فرق سے متعلق ہے۔ آئی ایم ایف نے اس فرق کے حل کے لیے اقدامات جاننے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

صحت اور تعلیم

آئی ایم ایف مشن نے صحت اور تعلیم کے اخراجات کے اہداف مسلسل پورے نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ مالی سال صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مجموعی اخراجات مقررہ ہدف سے تقریباً 370 ارب روپے کم رہے۔

ان دونوں شعبوں کے لیے مجموعی اخراجات کا ہدف تقریباً 3.5 کھرب روپے مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم حقیقی اخراجات اس ہدف سے نمایاں طور پر کم رہے۔

اس طرح جاری مذاکرات میں مالیاتی اہداف اور معاشی اصلاحات کے ساتھ صحت اور تعلیم کے اخراجات بھی زیر بحث آگئے ہیں۔

editor

Related Articles