امریکی صدر ٹرمپ کی خوراک میں کیا کچھ شامل؟ دلچسپ تفصیلات سامنے آگئیں

امریکی صدر ٹرمپ کی خوراک میں کیا کچھ شامل؟ دلچسپ تفصیلات سامنے آگئیں

دنیا کی طاقتور ترین کرسی پر بیٹھنے والے رہنماؤں کے فیصلے ہی نہیں، ان کی عادتیں بھی خبروں کا حصہ بنتی ہیں ،  کوئی صبح سویرے ورزش کے لیے مشہور ہوتا ہے تو کوئی سادہ کھانے کے لیے،  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوراک اور روزمرہ معمول بھی ہمیشہ سے عوامی دلچسپی کا موضوع رہے ہیں، اور اس کی وجہ سیدھی سی ہے کہ  ان کا دسترخوان عام امریکی کے پسندیدہ کھانوں کی جھلک دکھاتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کی خوراک میں فاسٹ فوڈ، برگر، فرائیڈ چکن اور ڈائٹ کولڈ ڈرنک نمایاں طور پر شامل رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے نجی طیارے میں معروف برانڈز کے برگر، فرائیڈ چکن، پیزا اور ڈائٹ کولڈ ڈرنک کو ان کے اہم کھانوں کے طور پر رکھا جاتا ہے ، ٹرمپ کو نجی طیارے میں فرائیڈ چکن، برگر اور فرائز سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

سب سے زیادہ چرچا ان کی ڈائٹ کولڈ ڈرنک سے محبت کا رہا ہے ، رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایک دن میں 12 کین تک ڈائٹ کولڈ ڈرنک پیا کرتے تھے۔

 وائٹ ہاؤس میں ان کی میز پر ایک بٹن بھی موجود تھا، جسے دبانے سے نئی ڈائٹ کولڈ ڈرنک ان کے سامنے حاضر ہو جاتی تھی،  یہ تفصیل اقتدار کے ایوانوں کی ایک دلچسپ اور غیر معمولی جھلک پیش کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ’اے آئی فورس‘ بنانے کا اعلان

ٹرمپ نے ماضی میں ورزش سے زیادہ دلچسپی نہ ہونے کا اظہار بھی کیا ہے اور ایک موقع پر بتایا تھا کہ میں زیادہ سے زیادہ تقریباً 1 منٹ روزانہ ورزش کرتا ہوں۔

ان کے سابق معالج رونی جیکسن کے مطابق ٹرمپ عام طور پر رات میں تقریباً 4 سے 5 گھنٹے سوتے ہیں۔

ٹرمپ نے خود بھی بتایا ہے کہ میں عموماً رات 1 بجے سوتا اور صبح 5 بجے اٹھ جاتا ہوں، جس کے بعد اخبارات پڑھتا، ٹی وی دیکھتا اور کھانا کھاتا ہوں۔

ٹرمپ ماضی میں نیند کو ’محدود وسیلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ میں آرام کے بجائے اپنی توانائی کام پر صرف کرنے کو ترجیح دیتا ہوں۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے پہلے اور دوسرے صدارتی دور کے درمیان ان کے وزن میں بھی کمی آئی اور طبی رپورٹ میں ان کا وزن 244 پاؤنڈ سے کم ہو کر 224 پاؤنڈ ریکارڈ کیا گیا۔

ماہرین صحت فاسٹ فوڈ اور زیادہ مقدار میں مشروبات کے استعمال پر ہمیشہ احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں، تاہم عوام کے لیے یہ باتیں اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ سیاست کے بڑے ناموں کی زندگی بھی کھانے کی میز پر عام انسانوں جیسی ہی خواہشات رکھتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک صدر کا دسترخوان دنیا بھر میں اتنی دلچسپی سے دیکھا اور پڑھا جاتا ہے۔

editor

Related Articles