مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا ایک اور سنگین واقعہ پیش آیا ہے۔ کٹھوعہ میں سی آئی ایس ایف اہلکار نے اپنے ہی چار ساتھیوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔
واقعہ جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع میں سیوا ٹو پن بجلی منصوبے کے کیمپ میں پیش آیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق فائرنگ سینٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس کے ایک اہلکار نے کی۔
ڈیوٹی تبدیلی پر جھگڑا
رپورٹس کے مطابق واقعہ منگل کی شام ڈیوٹی تبدیل ہونے کے دوران پیش آیا۔ اس موقع پر پیرا ملٹری فورس کے اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔
تلخ کلامی کے بعد معاملہ اچانک فائرنگ تک پہنچ گیا۔ ایک اہلکار نے سرکاری اسلحے سے اپنے ساتھیوں کو نشانہ بنایا۔
فائرنگ کی اصل وجہ ابھی واضح نہیں ہوسکی۔ پولیس نے واقعے کی وجوہات اور جھگڑے کی نوعیت جاننے کیلئے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
چار اہلکار ہلاک
فائرنگ کے نتیجے میں سی آئی ایس ایف کے چار اہلکار ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں اسسٹنٹ کمانڈنٹ انکت کمار پانڈے بھی شامل ہیں۔
دیگر اہلکاروں کی شناخت سب انسپکٹر لکشمن سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔ کانسٹیبل رفیق احمد اور سندیپ کمار بھی فائرنگ کا نشانہ بنے۔
واقعے کے بعد کیمپ میں سکیورٹی انتظامات اور اہلکاروں کی موجودگی سے متعلق صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
ملزم گرفتار
مقبوضہ کشمیر پولیس کے مطابق فائرنگ میں ملوث سی آئی ایس ایف ہیڈ کانسٹیبل اودیش سنگھ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم نے سرکاری بندوق استعمال کرتے ہوئے اپنے ہی ساتھی اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ سی آئی ایس ایف کے بیان میں بتایا گیا کہ اودیش کمار کے پاس 150 گولیاں تھیں۔
واقعے کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔ پولیس فائرنگ سے پہلے پیش آنے والے حالات اور اہلکاروں کے درمیان تنازع کی وجوہات معلوم کررہی ہے۔
کورٹ آف انکوائری
سی آئی ایس ایف ہیڈکوارٹر نے واقعے کی مکمل تحقیقات کیلئے کورٹ آف انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ انکوائری میں فائرنگ کے محرکات اور واقعے سے پہلے کے حالات کا جائزہ لیا جائے گا۔
تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل وجہ سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔ فی الحال پولیس اور متعلقہ ادارے واقعے کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔
ایسے واقعات کا پس منظر
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اور مختلف سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سے متعلق ماضی میں بھی خودکشی اور آپس میں فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق 2025 میں ایسے چار واقعات سامنے آئے تھے۔ 2023 سے اب تک سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز، آسام رائفلز اور نیشنل سکیورٹی گارڈ سے متعلق 10 سے زائد ایسے واقعات رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق 2026 میں بھی ایسا واقعہ سامنے آچکا ہے۔ جولائی میں مغربی بنگال کے مالدا میں بی ایس ایف کے ایک اہلکار کی فائرنگ سے دو ساتھی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
کٹھوعہ کا تازہ واقعہ بھی اسی نوعیت کے واقعات میں شامل ہوگیا ہے۔ تاہم موجودہ واقعے کی حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔