بھارت میں امتحانی بے ضابطگیوں اور طلبہ کے مسائل پر سیاسی کشیدگی بڑھ گئی، جہاں کانگریس کے احتجاج کے دوران پولیس نے اپوزیشن رہنماؤں راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی سمیت متعدد رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔
کانگریس نے طلبہ پر پولیس تشدد اور داخلہ امتحانات میں پیپر لیک کے معاملے کے خلاف نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی رہائشگاہ کے باہر احتجاج کیا۔
مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ امتحانات میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی ذمہ داری قبول کی جائے اور وزیر تعلیم دھرمیندرا پردھان سے استعفیٰ لیا جائے،احتجاج کے دوران کانگریس رہنماؤں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور کہا کہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے متعلق سنگین سوالات موجود ہیں،بعد ازاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کیا اور راہول گاندھی، پریانکا گاندھی سمیت دیگر کانگریسی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔
گرفتاری سے قبل راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، انہوں نے الزام لگایا کہ پیپر لیک کے واقعات نے ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کو متاثر کیا، لیکن ذمہ دار افراد کے خلاف خاطر خواہ کارروائی نہیں کی گئی۔
راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ ملک کے لاکھوں طلبہ دن رات محنت کرتے ہیں، لیکن امتحانی نظام میں خامیوں کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طلبہ کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے نوجوانوں کو دبانے کے بجائے حکومت کو اصل مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
دوسری جانب، اس احتجاج کے بعد بھارت میں سیاسی بحث مزید تیز ہوگئی ہے، جہاں اپوزیشن حکومت سے جواب طلب کر رہی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے ایسے معاملات پر اپنا مؤقف پیش کیا جاتا رہا ہے۔