پاکستان کی معروف اداکارہ ہانیہ عامر نے ایک اور بڑی بین الاقوامی کامیابی اپنے نام کر لی ہے۔ عالمی شہرت یافتہ کاروباری جریدے فوربس نے انہیں اپنی باوقار ’’30 انڈر 30 ایشیا 2026‘‘ فہرست میں شامل کر لیا ہے، جہاں انہیں انٹرٹینمنٹ اینڈ اسپورٹس کیٹیگری میں نمایاں مقام حاصل ہوا ہے۔
فوربس کی جانب سے ہر سال جاری کی جانے والی یہ فہرست ایشیا بھر کے ان نوجوان افراد کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جن کی عمر 30 سال سے کم ہو اور جنہوں نے اپنے شعبوں میں غیر معمولی کارکردگی اور نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہوں۔
اس سال پاکستان کے لیے یہ اعزاز مزید خاص اس وقت بن گیا جب اداکارہ ہانیہ عامر کے ساتھ نوجوان پاکستانی فلم ساز سمن کامران کو بھی فوربس کی اس باوقار فہرست میں شامل کیا گیا۔
ہانیہ عامر گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کی مقبول ترین اداکاراؤں میں شمار ہونے لگی ہیں۔ انہوں نے متعدد کامیاب ڈراموں کے ذریعے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی پہچان بنائی ہے۔ حال ہی میں وہ دو کروڑ سے زائد فالوورز کے ساتھ انسٹاگرام پر پاکستان کی سب سے زیادہ فالو کی جانے والی خاتون شخصیت بن چکی ہیں، جو ان کی غیر معمولی مقبولیت کا مظہر ہے۔
ان کے حالیہ کامیاب منصوبوں میں سپر ہٹ ڈرامہ ’’کبھی میں کبھی تم‘‘ شامل ہے، جس نے ناظرین میں بے حد مقبولیت حاصل کی۔ اس کے علاوہ ہانیہ عامر جلد پاکستان کی پہلی نیٹ فلکس اوریجنل سیریز ’’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘‘ میں بھی جلوہ گر ہوں گی، جس کا مداح بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
اداکاری کے ساتھ ساتھ ہانیہ عامر سماجی سرگرمیوں میں بھی متحرک کردار ادا کر رہی ہیں اور اقوام متحدہ کے خواتین کے ادارے یو این ومین(UN Women) کی نیشنل گڈول ایمبیسیڈر کے طور پر خواتین کے حقوق اور بااختیار بنانے کے پیغام کو فروغ دے رہی ہیں۔
دوسری جانب فلم ساز سمن کامران نے بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور سماجی شعور پر مبنی کام کے باعث فوربس کی توجہ حاصل کی۔ ان کی مختصر فلم ’’The Bed She Made‘‘ پاکستان کی واحد فلم تھی جسے بوسان انٹرنیشنل شارٹ فلم فیسٹیول کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس فلم میں موسمیاتی تبدیلی اور تولیدی صحت جیسے اہم سماجی مسائل کو اجاگر کیا گیا تھا۔
؎سمن کامران اس سے قبل پاکستانی فینٹسی فلم ’’عمرو عیار: ایک نئی شروعات‘‘ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔
فوربس 30 انڈر 30 ایشیا 2026 میں پاکستانی فنکاروں اور تخلیق کاروں کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا نوجوان ٹیلنٹ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہا ہے اور مختلف شعبوں میں ملک کا نام روشن کر رہا ہے۔