امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے نتیجے میں آئندہ ایک ہفتے کے دوران ایک اہم معاہدہ طے پا سکتا ہے، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بحری سرگرمیوں کی بحالی میں مددگار ثابت ہوگا۔
امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ معاہدہ قریب ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطے مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ معاہدے کے تحت جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی جس سے خطے میں استحکام کو فروغ ملے گا اور تنازعات میں کمی آنے کی توقع ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ مجوزہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہوگی کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔
امریکی صدر اس سے قبل بھی یہ بیان دے چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے جاری ہیں اور دونوں فریق مختلف امور پر بات چیت کے ذریعے پیش رفت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سفارتی راستہ ہی مسائل کے حل کا مؤثر ذریعہ ہے اور امریکا اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیغامات کے تبادلے میں تعطل کے فیصلے پر بھی ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس فیصلے سے کوئی خاص مسئلہ نہیں تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا دوبارہ فوجی کارروائیوں کا راستہ اختیار کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن فی الحال سفارتی اور معاشی دباؤ کی حکمت عملی پر قائم ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایران کے خلاف بحری ناکا بندی برقرار رکھے گا اور اس وقت کا انتظار کرے گا جب تہران امریکا کی قابل قبول شرائط کے تحت کسی معاہدے پر آمادہ ہوگا۔