بجٹ تاخیر کا شکار کیوں ہوا؟ اصل وجہ سامنے آگئی

بجٹ تاخیر کا شکار کیوں ہوا؟ اصل وجہ سامنے آگئی

 صوبوں اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بعض اہم معاملات پر اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث بجٹ سازی کا عمل متاثر ہوا ہے جس کے باعث بجٹ کی تاریخ کا اعلان 10جون کو کرنا پڑا

ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا ہونے والا اجلاس بھی ملتوی کر دیا گیا ہے جس کے بعد بجٹ شیڈول میں تبدیلی یقینی ہوئی ۔ حکومتی حلقوں کے مطابق بجٹ میں تاخیر کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ صوبوں کے ترقیاتی بجٹ اور قومی ترجیحات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے جبکہ دوسری وجہ آئی ایم ایف کے ساتھ ٹیکس وصولیوں اور مالی اہداف پر حتمی اتفاق رائے نہ ہونا ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت دفاع اور قومی سلامتی کے بڑھتے ہوئے تقاضوں کے پیش نظر صوبوں سے مالی تعاون کی خواہاں ہے۔ تاہم صوبے اپنے ترقیاتی فنڈز میں کسی بڑی تبدیلی یا وسائل کی منتقلی پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے۔ صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کا مجموعی حجم 3.138 ٹریلین روپے تجویز کیا گیا ہے جبکہ وفاقی ترقیاتی بجٹ تقریباً 1.126 ٹریلین روپے تک محدود رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عوام ہو جائیں تیار، پیٹرول اور ڈیزل پر بڑا ٹیکس؟ نیا پلان سامنے آگیا

دوسری جانب آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے لیے ایف بی آر کے ٹیکس ہدف میں نرمی سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 15 ہزار 264 ارب روپے کی ٹیکس وصولی ہر صورت یقینی بنانا ہوگی۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ٹیکس اقدامات، اخراجات میں کمی اور 2 فیصد پرائمری سرپلس کے ہدف کے حوالے سے مشاورت جاری ہے تاہم اب تک حتمی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بجٹ میں تاخیر اگرچہ غیر معمولی نہیں تاہم موجودہ صورتحال حکومت کے لیے ایک مشکل امتحان بن چکی ہے کیونکہ ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنا ضروری ہے جبکہ دوسری جانب صوبوں کو اعتماد میں لینا بھی ناگزیر ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں اہم فیصلے متوقع ہیں جن کے بعد بجٹ پیش کرنے کی حتمی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

editor

Related Articles