افغانستان میں مزاحمتی گروہ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے افغان طالبان حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے چیئرمین اور سابق افغان جنرل سمیع سادات نے گزشتہ روز جاری کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ طالبان کے خلاف جنگی کارروائیاں شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کارروائیوں کے پہلے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے، جس کے تحت طالبان کے ارکان، ٹھکانوں اور قیادت کو نشانہ بنایا جائے گا۔
افغان فوج کی وردی میں ویڈیو پیغام دیتے ہوئے جنرل سمیع سادات نے کہا کہ ان کی جدوجہد صرف افغان طالبان تک محدود نہیں بلکہ القاعدہ، اسلامک اسٹیٹ (داعش)، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بھی جاری رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان کا سوشل میڈیا پر سردار عزیز کی ہلاکت سے متعلق جھوٹا اور من گھڑت پروپیگنڈا بے نقاب
انہوں نے کہا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے تقریباً پانچ سال بعد یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مذاکرات کے ذریعے کسی سیاسی حل تک پہنچنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں، اس لیے مزاحمتی کارروائیوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جنرل سمیع سادات نے افغانستان کے اندر اور بیرون ملک مقیم افغان شہریوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر اس جدوجہد کا حصہ بنیں تاکہ ملک کو طالبان کی حکمرانی سے نجات دلائی جا سکے۔
Chairman of the AUF @SayedSamiSadat Message ⬇️ pic.twitter.com/RcvPA4knwc
— Afghanistan United Front (@afgunitedfront) August 1, 2026

