موسم کیسا رہے گا؟ این ڈی ایم اے نے اہم الرٹ جاری کردیا

موسم کیسا رہے گا؟ این ڈی ایم اے  نے اہم الرٹ جاری کردیا

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے مون سون بارشوں میں شدت کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں سیلاب کے خطرے سے متعلق نیا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ 2 سے 4 اگست کے دوران بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) کے مطابق دریائے لہڑی میں ہیڈ گوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ وزیرآباد کے قریب نالہ پلکھو میں درمیانے درجے کا سیلاب جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں کالا باغ، چشمہ، گڈو اور سکھر کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، جبکہ دریائے ناری کے ہیڈ ناری کے مقام پر بھی کم درجے کے سیلابی حالات موجود ہیں۔

این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔ اسی طرح دریائے جہلم، راوی، کابل اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں بھی پانی کی سطح بلند ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

اتھارٹی کے مطابق دریائے جہلم، چناب اور راوی سے منسلک برساتی ندی نالوں میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، جبکہ دریائے راوی اور ستلج میں پانی کی صورتحال کا انحصار سرحد پار آبی ذخائر سے چھوڑے جانے والے پانی پر ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں شدید بارشیں کب تک رہیں گی،محکمہ موسمیات کی نئی پیشگوئی آ گئی

این ڈی ایم اے نے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے پہاڑی ندی نالوں میں اچانک سیلاب، جبکہ وسطی اور جنوبی خیبر پختونخوا اور شمالی بلوچستان کے موسمی نالوں میں بھی طغیانی کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

ادھر مسلسل بارشوں کے باعث راولپنڈی، جہلم، گوجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد، پشاور، مردان، نوشہرہ، حیدرآباد، بدین، ٹھٹھہ اور سندھ کے دیگر علاقوں میں شہری سیلاب اور پانی جمع ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

این ڈی ایم اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ زیر آب سڑکوں اور ندی نالوں کو عبور کرنے سے گریز کریں، سفر سے پہلے موسم کی صورتحال سے آگاہی حاصل کریں اور مقامی انتظامیہ کی حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔ اتھارٹی نے عوام کو بروقت موسمی اطلاعات اور ہنگامی انتباہات کے لیے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ موبائل ایپ استعمال کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم کی ایمرجنسی رسپانس کمیٹی (ای آر سی) کا مسلسل دسویں روز جائزہ اجلاس وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں اور اعلیٰ انتظامی حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران این ڈی ایم اے نے موسم، جانی و مالی نقصانات، انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان، امدادی کارروائیوں اور بحالی کے اقدامات پر بریفنگ دی۔ حکام نے بتایا کہ تمام حساس اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مون سون اسپیل : پنجاب میں سیلاب اور اربن فلڈنگ کا خدشہ، پی ڈی ایم اے کا ہائی الرٹ

کمیٹی کو بتایا گیا کہ حالیہ بارشوں کے باعث مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی، جہاں وفاقی، صوبائی اور ضلعی ادارے مشترکہ طور پر امدادی اور ریسکیو سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز کے دوران شمالی اور وسطی پاکستان میں مزید بارشوں، جبکہ جنوب مشرقی سندھ میں چند مقامات پر بارش کی پیش گوئی بھی کی ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں قومی اور بین الاقوامی فلاحی ادارے بھی تعاون کر رہے ہیں۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ رواں مون سون سیزن کے دوران زیادہ تر ہلاکتیں غیر محفوظ اور کمزور تعمیرات کے منہدم ہونے کے باعث ہوئیں، جس کے پیش نظر عمارتوں کے حفاظتی معیار پر سختی سے عمل درآمد اور عوامی آگاہی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

ایمرجنسی رسپانس کمیٹی نے وفاقی و صوبائی اداروں، ضلعی انتظامیہ، مسلح افواج اور ریسکیو ٹیموں کی خدمات کو سراہتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی رابطہ مزید مؤثر بنانے، مکمل تیاری برقرار رکھنے، امدادی و بحالی سرگرمیاں تیز کرنے اور مستقبل میں ممکنہ موسمی آفات کے اثرات کم کرنے کے لیے پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

Related Articles