پنجاب حکومت نے کم آمدن والے خاندانوں کے لیے گھروں کی مرمت، خراب چھتوں کی بحالی اور بالائی منزل کی تعمیر میں مدد دینے کے لیے بلا سود قرضہ پروگرام شروع کر دیا ہے۔
اس پروگرام کے تحت اہل افراد کو 5 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے گھروں کی تعمیر و مرمت کے مسائل حل کر سکیں۔
دو مختلف کیٹیگریز متعارف
حکومت کی جانب سے آفیشل پورٹل پر درخواست گزاروں کے لیے دو کیٹیگریز متعارف کرائی گئی ہیں،پہلی کیٹیگری اپنی چھت، اپنا گھرپروگرام کے تحت مکمل قرضے کی سہولت فراہم کرتی ہے، جبکہ دوسری کیٹیگری میں خراب چھتوں کی مرمت اور بحالی کے لیے قرضہ دیا جائے گا۔
اہلیت کا معیار
قرضہ حاصل کرنے کے لیے حکومت نے چند شرائط مقرر کی ہیں، درخواست گزار کا پنجاب کا مستقل رہائشی ہونا اور نادرا سے تصدیق شدہ شناختی کارڈ کا حامل ہونا ضروری ہے۔
درخواست گزار کے پاس شہری علاقے میں 5 مرلہ یا دیہی علاقے میں 10 مرلہ تک رہائشی زمین یا مکان کی ملکیت ہونی چاہیے،درخواست جمع کرانے کے وقت عمر 21 سے 60 سال کے درمیان ہونا لازمی قرار دی گئی ہے۔
دیگر شرائط
حکومت کے مطابق درخواست گزار کسی بینک یا مالیاتی ادارے کا ڈیفالٹر نہ ہو اور اس کا مالیاتی ریکارڈ درست ہونا چاہیے،اس کے علاوہ درخواست گزار کسی سنگین فوجداری جرم میں سزا یافتہ نہ ہو، درخواست گزار کو نادرا اور پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی سے اپنے ریکارڈ کی تصدیق بھی کرانا ہوگی۔
درخواست دینے کا طریقہ
خواہشمند افراد آفیشل پورٹل acag.punjab.gov.pk پر جا کر اپنا اکاؤنٹ رجسٹر کر سکتے ہیں،رجسٹریشن کے بعد درخواست گزار کو اپنی مطلوبہ لون کیٹیگری منتخب کرنا ہوگی اور ضروری دستاویزات، جن میں شناختی کارڈ، پراپرٹی ملکیت کا ثبوت (فرد) اور موجودہ گھر کی تصاویر شامل ہیں، اپ لوڈ کرنا ہوں گی۔
ہیلپ ڈیسک اور رابطہ نمبر
عوام کی رہنمائی کے لیے پنجاب بھر کے تمام ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور متعلقہ دفاتر میں خصوصی ہیلپ ڈیسک قائم کیے گئے ہیں، جہاں جا کر درخواستیں جمع کرائی جا سکتی ہیں،مزید معلومات اور رہنمائی کے لیے حکومت نے ٹول فری ہیلپ لائن 0800-09100 بھی جاری کر دی ہے۔
“اپنی چھت محفوظ چھت پروگرام” کے تحت بوسیدہ چھت کی مرمت اور بالائی منزل کی تعمیر کے لیے 5 سے 10 لاکھ روپے تک کے بلا سود قرض کی فراہمی۔
جانیے درخواست دینے کا مکمل طریقہ کار۔
آن لائن اپلائی کریں یا قریبی دفتر تشریف لے جائیں۔ pic.twitter.com/Rrj7JzzmCA— Government of Punjab (@GovtofPunjabPK) August 2, 2026

