امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے میں پاکستان نے اہم ثالثی کردار ادا کیا، جسے اسلام آباد کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مؤثر کردار ادا کیا، جبکہ اس پیش رفت کے نتیجے میں اسلام آباد کو عالمی ذرائع ابلاغ میں مثبت توجہ بھی حاصل ہوئی۔
وال اسٹریٹ جرنل نے لکھا کہ اس عمل کے بعد واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مواقع پر پاکستانی قیادت کی تعریف کی اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
یہ بھی پڑھیں :پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششیں، سعودی عرب کا ایک مرتبہ پھر حمایت کا اعادہ
جریدے کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نے پاکستان کی بین الاقوامی اہمیت کو اجاگر کیا اور اسے خطے میں ایک ذمہ دار اور مؤثر سفارتی کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر پیش کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز تک لانے کے لیے قابلِ ذکر کوششیں کیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے تجزیے کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا بلکہ اہم عالمی طاقتوں کے ساتھ اس کے تعلقات میں بھی بہتری کی راہ ہموار ہوئی۔
دوسری طرف کل جنیوا میں ہونے والے معاہدے کے لیے وفود پہنچنا شروع ہوگئے ہیں ،امریکی جہاز برگن اسٹاک پہنچ گئے جبکہ پاکستان کی طرف سے بطور میزبان وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی بھی جلد روانگی متوقع ہے ۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک کاوشوں کے بعد بین الاقوامی سفارت کاری کے افق پر پاکستان نے اب تک کی سب سے بڑی اور تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے تاریخی جنگ بندی معاہدے یعنی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ (اسلام آباد میمورینڈم آف انڈرسٹینڈنگ) پر بطور ثالث (میڈی ایٹر) باضابطہ طور پر اپنے دستخط ثبت کر دیے ہیں۔
اس انتہائی اہم اور اسٹریٹجک دستاویز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان پہلے ہی اپنے الیکٹرانک دستخط کر چکے ہیں، جس کے بعد اب پاکستان کے وزیراعظم کے دستخط نے اس امن ڈیل کو حتمی اور تاریخی شکل دے دی ہے۔ یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ سمیت دنیا بھر کو ایک ہولناک جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔
‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کا مرکزی نقطہ اور پسِ پردہ کوششیں
اس تاریخ ساز معاہدے کو ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کا نام دیا جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد نے اس پورے امن عمل کے مرکزی محور کے طور پر کام کیا ہے۔
اسلام آباد: 18 جون 2026.
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت (Islamabad Memorandum of Understanding) پر بطور ثالث دستخط کردئے۔
اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں۔ pic.twitter.com/af1F81DobA
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) June 18, 2026

