سابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے گوادر راجی مُچی کیس میں آج سنائی گئی سزا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف انتخابی نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اسے کسی مخصوص طبقے تک محدود رکھا جا سکتا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ گوادر راجی مُچی کیس میں آج کا فیصلہ اختلاف رائے کے خلاف ریاست کی فتح نہیں بلکہ احتساب کی بے خوفی پر جوابدہی کی کامیابی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو عناصر خود کو پُرامن کارکن ظاہر کرتے ہوئے تشدد کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، وہ مزید سول سوسائٹی کی آڑ میں خود کو نہیں چھپا سکتے۔ ان کے بقول، ان کے مبینہ پرتشدد اقدامات کے نتائج عدالتی عمل کے ذریعے سامنے آ چکے ہیں۔
انوار الحق کاکڑ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان اپنے تمام شہریوں کا تحفظ کرے گا، خواہ وہ وردی میں ہوں یا بغیر وردی کے۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ دو سالہ قانونی جدوجہد کے بعد بالآخر بلوچستان کے فرزند، شہید شبیر بلوچ، کو عدالت سے انصاف مل گیا۔
گوادر شہر میں دورانِ ڈیوٹی بی وائے سی کے مشتعل مظاہرین نے ماہ رنگ لانگو کی قیادت میں انہیں پتھر مار مار کر شہید کیا تھا، آج عدالت کی جانب سے ماہ رنگ لانگو اور ان کے ساتھیوں کو سزا سنائے جانے کے بعد حکومت بلوچستان کا یہ مؤقف درست ثابت ہوا کہ پرامن احتجاج کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے، تشدد کو فروغ دینے اور ریاستی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے عناصر دراصل دہشت گردی کے سہولت کار ہیں۔
حکومت بلوچستان شہید شبیر بلوچ کے قاتلوں کو سزا ملنے پر ان کے اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی کرتی ہے اور انہیں یقین دلاتی ہے کہ شہید کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔