امریکا، پاکستان دوطرفہ تجارت 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی،نیٹلی بیکر

امریکا، پاکستان دوطرفہ تجارت 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی،نیٹلی بیکر

پاکستان میں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا ہے کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت  8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے مزید وسیع امکانات موجود ہیں۔

نیٹلی بیکر نے 11 اور 12 اگست کو لاہور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، مشیر علی ڈار، کاروباری رہنماؤں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین سے ملاقاتیں کیں، ملاقاتوں میں مصنوعی ذہانت، اعلیٰ تعلیم، اختراع، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ٹیکنالوجی میں تعاون کے مواقع

امریکی سفارتخانے کے مطابق نیٹلی بیکر نے کہا کہ امریکا پاکستان کے نجی شعبے، جامعات، اختراع کاروں اور حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان میں امریکی مشن دوطرفہ تجارت کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے، نیٹلی اے بیکر

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ٹیکنالوجی کا شعبہ تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے اور دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون بڑھا سکتے ہیں۔

سافٹ ویئر اور اے آئی پر توجہ

نیٹلی بیکر نے کہا کہ سافٹ ویئر، ڈیجیٹل سروسز اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں دونوں ممالک کے لیے تعاون کے نمایاں مواقع موجود ہیں،ٹیکنالوجی کے شعبے میں شراکت داری سے کاروباری روابط کے ساتھ ساتھ پاکستانی ہنرمند نوجوانوں کے لیے عالمی مارکیٹ میں نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔

تعلیم سے معاشی روابط مضبوط بنانے کی خواہش

امریکی ناظم الامور نے کہا کہ امریکی تعلیمی مہارت پاکستانی طلبہ کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے، انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تعاون دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

معاشی تعلقات میں وسعت کی گنجائش

نیٹلی بیکر کے مطابق امریکا اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے،ان کے دورہ لاہور میں اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، تعلیم اور نجی شعبے کے درمیان روابط کو فروغ دینا ضروری ہے۔

editor

Related Articles