افغانستان میں طالبان کا تعلیمی نظام نظریاتی انتہاپسندی کی زد میں، نئی نسل کی ذہن سازی کا منصوبہ سامنے آگیا

افغانستان میں طالبان کا تعلیمی نظام نظریاتی انتہاپسندی کی زد میں، نئی نسل کی ذہن سازی کا منصوبہ سامنے آگیا

افغانستان میں طالبان کے تعلیمی نظام میں تبدیلیوں سے متعلق ایک نئی رپورٹ نے خطے میں تعلیم نظریاتی تربیت اور انتہاپسندی کے حوالے سے بحث کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت نے لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندیوں کے ساتھ ساتھ مجموعی تعلیمی نظام میں بھی ایسی تبدیلیاں کی ہیں جن میں مذہبی تعلیم کے ساتھ طالبان کی مخصوص نظریاتی سوچ کو زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔

آسٹریلوی تھنک ٹینک لووی انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں تعلیمی نظام کو بتدریج ان کی نظریاتی ترجیحات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس عمل کا ایک اہم حصہ مدارس کے نظام میں توسیع اور نصاب میں تبدیلیاں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کے دور حکومت میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے سے قبل رجسٹرڈ مدارس کی تعداد تقریباً 5 ہزار تھی جو بڑھ کر 23 ہزار تک پہنچ گئی، جبکہ ان مدارس میں 36 لاکھ سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں۔

لووی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق افغانستان کے بعض تعلیمی اداروں اور مدارس میں مذہبی تعلیم کے ساتھ جہادی اور عسکری تصورات کو بھی جگہ دی جارہی ہے۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کم عمر بچوں کو ایسی تعلیم دی جارہی ہے جس میں آزادانہ اور تنقیدی سوچ کے بجائے نظریاتی ہم آہنگی، اطاعت اور مخصوص سیاسی و مذہبی نظریات سے وابستگی کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اب پیٹرول کا ریٹ کتنے دن بعد بدلے گا ؟ اہم اعلان ہو گیا

رپورٹ میں طالبان کی جانب سے خودکش حملہ آوروں اور عسکری کارروائیوں کی تشہیر کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ تھنک ٹینک کے مطابق ایسی تشہیر مذہبی تعلیم اور عسکریت پسندی کے درمیان واضح فرق کو کم کرسکتی ہے اور بچوں کی ذہنی تشکیل پر اثر انداز ہونے کا خدشہ پیدا کرتی ہے۔

افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم کا معاملہ بھی رپورٹ کا اہم حصہ ہے۔ طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد لڑکیوں کو سیکنڈری اسکول اور یونیورسٹی کی تعلیم سے بڑے پیمانے پر محروم رکھا ہے۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق اور تعلیم سے متعلق ادارے مسلسل افغان حکومت سے لڑکیوں اور خواتین کے لیے تعلیم کے دروازے کھولنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں تعلیم کے محدود ہوتے مواقع اور مدارس کے بڑھتے ہوئے کردار کو صرف خواتین کی تعلیم کے مسئلے تک محدود نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ ملک کی نئی نسل کی مجموعی فکری اور سماجی تشکیل سے بھی جڑا معاملہ ہے۔

لووی انسٹی ٹیوٹ نے افغانستان میں القاعدہ سمیت مختلف عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی کے تناظر میں بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر تعلیمی نظام میں نظریاتی اور عسکری تصورات کی موجودگی کے ساتھ افغانستان میں مسلح گروہوں کی سرگرمیاں بھی جاری رہیں تو اس کے اثرات افغانستان سے باہر بھی محسوس ہوسکتے ہیں۔

عالمی ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے تعلیمی نظام میں بچوں کو تنقیدی سوچ، برداشت، مختلف نقطہ ہائے نظر کو سمجھنے اور پرامن معاشرے کے لیے تیار کرنا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔ اگر تعلیم کو سیاسی یا عسکری نظریات کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کے اثرات طویل عرصے تک معاشرے پر رہ سکتے ہیں۔

پاکستان کے تناظر میں بھی افغانستان کی تعلیمی پالیسی اہم ہے۔ پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی نظریاتی تربیت اور وہاں موجود عسکری تنظیموں کی سرگرمیوں کا جائزہ خطے کی سلامتی کے تناظر میں ضروری ہے۔ ان کے مطابق افغان سرزمین سے پاکستان کو درپیش دہشت گردی کے خطرے کے حوالے سے اسلام آباد پہلے ہی متعدد مرتبہ اپنے تحفظات کا اظہار کرچکا ہے۔

تاہم افغانستان کے تعلیمی نظام سے متعلق اعداد و شمار اور مختلف دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا بھی ضروری ہے، کیونکہ طالبان حکومت کے تحت تعلیمی اداروں، مدارس اور نصاب سے متعلق مکمل اور شفاف معلومات تک رسائی محدود ہے۔

رپورٹ کا بنیادی سوال یہی ہے کہ افغانستان کی نئی نسل کو کس نوعیت کی تعلیم دی جارہی ہے اور یہ تعلیم آنے والے برسوں میں افغان معاشرے اور خطے کے مستقبل کو کس سمت لے جائے گی

Qaisar Mirza
editor

Related Articles