پاک فوج کے ریٹائرڈ افسران اور جوان قومی سلامتی کا انمول اثاثہ ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

پاک فوج کے ریٹائرڈ افسران اور جوان قومی سلامتی کا انمول اثاثہ ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

راولپنڈی میں یومِ آزادی کے پرمسرت موقع پر آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاک فوج کے ویٹرنز کے اعزاز میں ایک پروقار استقبالیہ دیا۔

تقریب میں ریٹائرڈ افسران اور جوانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی، جہاں دفاعِ وطن کے لیے ان کی لازوال خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے موجودہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد اور عزمِ نو کا اعادہ کیا گیا۔

14 اگست 2026 کو راولپنڈی میں منعقد ہونے والی اس تقریب کا بنیادی مقصد ان گنت قربانیاں دینے والے ریٹائرڈ فوجی جوانوں اور افسران کو خراجِ عقیدت پیش کرنا تھا۔

پاک فوج کی روایت ہے کہ وہ اپنے ہر اول دستے کے سپاہیوں کو کبھی فراموش نہیں کرتی، اور یہ استقبالیہ اسی دیرینہ روایت کا ایک روشن باب تھا۔

یہ بھی پڑھیں:یادگار فتح کے موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی لی گئی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

تقریب کے دوران ماحول انتہائی جذباتی اور جوش و خروش سے بھرپور تھا، جہاں پرانے ساتھیوں کی ملاقاتوں نے یادگار لمحات کو تازہ کیا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خطاب

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے دفاع کے لیے سابق فوجیوں کی لازوال خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریٹائرڈ افسران اور جوانوں کا تجربہ اور مشاورت موجودہ پیچیدہ سیکیورٹی ماحول میں اداروں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

قومی لچک کو مضبوط کرنے میں ویٹرنز کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ ادارہ جاتی ترقی اور خطے کے بدلتے ہوئے حالات میں سابق فوجیوں کی مسلسل وابستگی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

ویٹرنز کا ردعمل اور عزمِ استحکام

تقریب میں شریک ریٹائرڈ افسران اور جوانوں نے عسکری قیادت پر اپنے غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ مشکل ترین حالات میں بھی وہ مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ویٹرنز نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ ملک دشمن عناصر کے تمام عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے پاک فوج کی حمایت جاری رکھیں گے۔

ملکی خودمختاری، امن اور خوشحالی کے سفر میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ قومی اتحاد کو کمزور کرنے والی سازشوں کا مقابلہ اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ کیا جائے گا۔

پاکستان میں دفاعی روایت اور ویٹرنز کی اہمیت

پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی ملک کو اندرونی یا بیرونی خطرات کا سامنا کرنا پڑا، پاک فوج کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ جوانوں نے ہمیشہ سیسہ پلائی دیوار کا کردار ادا کیا۔

14 اگست کے پرمسرت موقع پر ویٹرنز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی یہ روایت اس بات کی غماز ہے کہ فوج اپنے ہر سپاہی کو ایک خاندان کا فرد سمجھتی ہے۔

موجودہ دور میں، جب ہائبرڈ وارفیئر، پروپیگنڈا اور سیکیورٹی کے نئے چیلنجز سر اٹھا رہے ہیں، سابق فوجیوں کا تجربہ نئی نسل کے لیے تربیت اور حکمتِ عملی کا ایک بہترین سرچشمہ بن جاتا ہے۔

اس تقریب کے اسٹریٹجک اور سیاسی مضمرات

موجودہ وقت میں جب ملک کو مختلف سطحوں پر جیو پولیٹیکل دباؤ اور داخلی سیکیورٹی کے چیلنجز کا سامنا ہے، اس قسم کے اجتماعات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

عسکری وحدت کا مظہر

 یہ استقبالیہ محض ایک روایتی تقریب نہیں بلکہ اس بات کا واضح پیغام تھا کہ پاک فوج کا ادارہ اپنے سابقہ اور حاضر سروس عملے کے درمیان اٹوٹ رشتے میں جڑا ہوا ہے۔

سیاسی اور سماجی استحکام

 ویٹرنز کا قیادت پر اعتماد اس بات کی ضمانت ہے کہ اندرونی خلفشار یا بیرونی دباؤ کے باوجود ملکی دفاعی ڈھانچہ مضبوط اور متحد ہے۔

نئی نسل کے لیے راہنمائی

سابق فوجیوں کی موجودگی نوجوان افسران کو یہ سکھاتی ہے کہ ملک کا دفاع صرف وردی تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک تا حیات اور مسلسل فریضہ ہے۔

یہ تقریب اس عزم کی تجدید تھی کہ پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور قوم اور فوج کا یہ رشتہ ہمیشہ کی طرح ناقابلِ تسخیر رہے گا۔

Related Articles