وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کسی ملازم یا اس کے اہلخانہ کو پنشن اور دیگر واجب الادا فوائد سے محروم رکھنا آئینی انصاف کے منافی ہے،عدالت نے خیبرپختونخوا کے بلدیاتی ادارے کے متوفی ملازم کی بیوہ کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے پنشن سمیت تمام متعلقہ فوائد فوری جاری کرنے کا حکم دے دیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں واضح کیا کہ پنشن کوئی رعایت، عطیہ یا خیرات نہیں بلکہ ریٹائرڈ ملازم کا بنیادی حق ہے عدالت کے مطابق پنشن ملازم کی کئی سالہ وفاداری، محنت اور سرکاری خدمت کے بعد حاصل ہونے والا محفوظ شدہ معاوضہ ہے،عدالت نے قرار دیا کہ پنشن کا حق آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق، انسانی وقار اور زندگی کی بقا کے اصولوں سے بھی منسلک ہے۔
ملازم کے حق میں تشریح
فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کسی قانون یا قواعد کی دو ممکنہ تشریحات سامنے آئیں تو ایسی تشریح اختیار کی جانی چاہیے جو ملازم کے حق میں ہوعدالت نے قرار دیا کہ پنشن سے متعلق معاملات میں قواعد کو اس انداز میں لاگو نہیں کیا جا سکتا جس سے ملازم یا اس کے خاندان کو بلاجواز حق سے محروم کر دیا جائے۔
پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم
وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کا سابقہ حکم بھی کالعدم قرار دے دیا، تحریری فیصلہ جسٹس ارشد شاہ نے تحریر کیا،عدالت نے قرار دیا کہ پشاور ہائی کورٹ نے معاملے کے ریکارڈ اور متعلقہ قانون کا درست جائزہ نہیں لیا تھا۔
بیوہ کی اپیل منظور
درخواست ٹی ایم اے ایبٹ آباد کے متوفی ملازم بشیر حسین کی بیوہ نے دائر کی تھی، عدالت نے بیوہ کو تمام واجب الادا فوائد ادا کرنے کا حکم دیا، جن میں پنشن، گریجویٹی، کمیوٹیشن اور بقایا جات شامل ہیں۔
سروس میں 10 ماہ 25 دن کی کمی
عدالتی فیصلے کے مطابق بشیر حسین 2011 میں میونسپل ایڈمنسٹریشن ایبٹ آباد میں فائر مین تعینات ہوئے تھے، بعد ازاں وہ چوکیدار کے عہدے سے نومبر 2020 میں ریٹائر ہوئے۔
ان کی پنشن کے لیے مقررہ کوالیفائنگ سروس میں 10 ماہ اور 25 دن کی کمی تھی۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے یہ کمی معاف کرنے کی منظوری بھی دے دی تھی، تاہم مجاز اتھارٹی کی منظوری کے باوجود آڈٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس معاملے پر اعتراض عائد کر دیا۔
وفات کے بعد قانونی جنگ
بشیر حسین کا 2021 میں انتقال ہوگیا، جس کے بعد ان کی بیوہ نے فیملی پنشن اور دیگر واجبات کے حصول کے لیے قانونی چارہ جوئی شروع کی،اب وفاقی آئینی عدالت نے بیوہ کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے تمام فوائد اور پنشن جاری کرنے کا حکم دیا ہے، جس سے پنشن کے حق سے متعلق ایک اہم قانونی اصول بھی سامنے آیا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد حاصل ہونے والے پنشن کے حقوق کو محض انتظامی اعتراضات کی بنیاد پر بلاجواز روکا نہیں جا سکتا۔