لزبن میں پاکستان کا ٹینس پرچم بلند، 4 عالمی تمغے جیت لیے

لزبن میں پاکستان کا ٹینس پرچم بلند، 4 عالمی تمغے جیت لیے

اعصام الحق نے مسلسل دوسری بار مکسڈ ڈبلز کا عالمی تاج اپنے نام کرلیا، عقیل خان کے ساتھ 45+ ڈبلز اور قومی ٹیم نے بھی چاندی کا تمغہ حاصل کر لیا۔

لزبن میں جاری آئی ٹی ایف ماسٹرز ورلڈ چیمپیئن  شپ میں پاکستان نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 4 عالمی تمغے اپنے نام کرلیے۔

اعصام الحق نے آسٹریا کی نینا ہرمن کے ساتھ مسلسل دوسری بار مکسڈ ڈبلز کا عالمی ٹائٹل جیت لیا۔ عقیل خان اور قومی ٹیم نے سلور جبکہ عقیل خان نے 40+ مکسڈ ڈبلز میں کانسی کا تمغہ بھی حاصل کیا۔

اعصام الحق کی مسلسل دوسری عالمی فتح

پرتگال کے شہر لزبن میں جاری آئی ٹی ایف ماسٹرز ورلڈ چیمپیئن  شپ پاکستان کے لیے یادگار بن گئی ہے، جہاں قومی کھلاڑیوں نے تجربے، مہارت اور مستقل مزاجی کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 4 تمغے حاصل کرلیے۔

پاکستانی ٹینس کے تجربہ کار کھلاڑی اعصام الحق نے آسٹریا کی نینا ہرمن کے ساتھ مکسڈ ڈبلز میں ایک بار پھر عالمی اعزاز حاصل کرلیا۔ دونوں نے فائنل میں پرتگال کی ٹاپ سیڈ جوڑی کو شکست دے کر 40+ مکسڈ ڈبلز کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔

یہ بھی پڑھیں:فرنچ اوپن ٹینس میں بڑا اپ سیٹ ، ورلڈ نمبرون جینیک سنر ایونٹ سے باہرہوگئے

اس کامیابی کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ اعصام الحق نے مسلسل دوسری مرتبہ مکسڈ ڈبلز کا عالمی ٹائٹل جیتا ہے۔

گزشتہ عالمی مقابلوں میں بھی وہ اسی فارمیٹ میں عالمی چیمپیئن  بننے میں کامیاب رہے تھے، جس کے بعد رواں ایونٹ میں ان کی کامیابی نے ان کی مسلسل کارکردگی اور عالمی سطح پر ڈبلز کھیلنے کی صلاحیت کو ایک بار پھر ثابت کردیا۔

عقیل خان کے ساتھ ڈبلز میں سلور

پاکستان کے لیے دوسرا بڑا اعزاز عقیل خان اور اعصام الحق کی جوڑی نے حاصل کیا۔ دونوں تجربہ کار کھلاڑیوں نے 45+ مینز ڈبلز میں عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے سلور میڈل حاصل کیا۔

یہ جوڑی پاکستانی ٹینس کی طویل اور کامیاب ڈبلز شراکت داری کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ دونوں کھلاڑی کئی برسوں تک پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اہم عالمی اور ڈیوس کپ مقابلوں میں ایک ساتھ کھیل چکے ہیں۔ ماسٹرز مقابلوں میں بھی ان کی ہم آہنگی اور تجربہ پاکستان کے لیے مسلسل فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔

ورلڈ ٹیم چیمپیئن  شپ میں بھی پاکستان کامیاب

پاکستان نے صرف انفرادی مقابلوں تک اپنی کارکردگی محدود نہیں رکھی بلکہ 45+ ورلڈ ٹیم چیمپیئن  شپ میں بھی سلور میڈل حاصل کیا۔

یہ کامیابی اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ٹیم ایونٹ میں کھلاڑیوں کی انفرادی صلاحیت کے ساتھ ساتھ مجموعی ٹیم ورک، دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت اور مختلف مقابلوں میں مسلسل کارکردگی درکار ہوتی ہے۔

پاکستان کا فائنل تک پہنچنا ظاہر کرتا ہے کہ تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل قومی دستہ عالمی سطح پر مضبوط ٹیموں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مکسڈ ڈبلز میں ایک اور تمغہ

پاکستان کے لیے چوتھا تمغہ 40+ مکسڈ ڈبلز میں عقیل خان نے حاصل کیا، جہاں انہوں نے کانسی کا تمغہ جیتا۔

یوں پاکستان نے ڈبلز کے مختلف فارمیٹس میں اپنی موجودگی بھرپور انداز میں ثابت کی۔ ایک ہی عالمی ایونٹ میں گولڈ، سلور اور برونز تینوں رنگ کے تمغے حاصل کرنا پاکستانی ماسٹرز ٹینس کے لیے قابل ذکر کامیابی قرار دی جا سکتی ہے۔

لزبن میں دنیا بھر کے تجربہ کار کھلاڑی آمنے سامنے

آئی ٹی ایف کے مطابق 2026 کی ماسٹرز ورلڈ ٹیم چیمپیئن  شپ لزبن اور اوئیراس میں 2 سے 7 اگست تک منعقد ہوئی، جس میں 32 ممالک کی 87 ٹیموں نے حصہ لیا۔ اس کے بعد 40+ اور 45+ کھلاڑیوں کے ورلڈ انفرادی مقابلے 8 سے 15 اگست تک لزبن اور اوئیراس میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔

ان مقابلوں میں دنیا کے مختلف ممالک سے سابق اور موجودہ اعلیٰ سطح کے ٹینس کھلاڑی شریک ہوئے۔ آئی ٹی ایف نے ایونٹ کے آغاز سے قبل پاکستان کو 45+ مردوں کے مقابلوں میں ایک ممکنہ مضبوط امیدوار قرار دیتے ہوئے اعصام الحق اور عقیل خان کو قومی ٹیم کی اہم قوت قرار دیا تھا۔

مزید پڑھیں:ٹینس کی دنیا میں منفرد مقابلہ ، ارینا سبالینکا اور نک کرگیوس مدمقابل

ماسٹرز ٹینس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں عمر کے مختلف گروپس کے کھلاڑی عالمی سطح پر مسابقت جاری رکھتے ہیں۔ یہ مقابلے سابق پیشہ ور کھلاڑیوں، قومی نمائندوں اور تجربہ کار شوقیہ کھلاڑیوں کو دوبارہ عالمی اسٹیج پر اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ کامیابی کیوں اہم ہے؟

پاکستانی ٹینس کا عالمی سطح پر ذکر عموماً نوجوان کھلاڑیوں یا ڈیوس کپ مقابلوں کے حوالے سے ہوتا ہے، لیکن ماسٹرز مقابلوں میں اعصام الحق اور عقیل خان کی مسلسل کامیابیاں ایک مختلف پہلو اجاگر کرتی ہیں۔

دونوں کھلاڑیوں نے عمر کے اس مرحلے پر بھی عالمی سطح کے مقابلوں میں اپنی مسابقتی صلاحیت برقرار رکھی ہے۔ خاص طور پر اعصام الحق کی مسلسل دوسری عالمی مکسڈ ڈبلز فتح اس بات کا ثبوت ہے کہ تجربہ، کورٹ پر فیصلہ سازی اور ڈبلز میں شراکت دار کے ساتھ تال میل طویل عرصے تک کامیابی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے سب سے حوصلہ افزا پہلو یہ بھی ہے کہ کامیابیاں صرف ایک کھلاڑی تک محدود نہیں رہیں۔ اعصام الحق نے گولڈ اور سلور جیتا، عقیل خان نے سلور اور برونز حاصل کیا، جبکہ قومی ٹیم نے بھی عالمی سطح پر چاندی کا تمغہ اپنے نام کیا۔ اس سے پاکستان کی ماسٹرز ٹینس میں مجموعی طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔

جوڑی نے ایک بار پھر معیار قائم کردیا

لزبن میں پاکستان کی کارکردگی کو صرف 4 تمغوں کی تعداد سے نہیں پرکھنا چاہیے۔ اس کامیابی کا اصل وزن ان مقابلوں کی نوعیت اور کھلاڑیوں کے معیار میں پوشیدہ ہے۔

اعصام الحق اور عقیل خان کی مسلسل عالمی سطح کی کارکردگی پاکستانی ٹینس کے لیے ایک اہم پیغام رکھتی ہے۔ دونوں کھلاڑیوں نے اپنے طویل کیریئر میں بڑے عالمی مقابلوں کا تجربہ حاصل کیا۔

لیکن ماسٹرز ٹینس میں ان کی کامیابیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ تجربہ اس وقت بھی فیصلہ کن ہتھیار بن سکتا ہے جب رفتار اور جسمانی صلاحیتوں کے ساتھ کھیل کی حکمت عملی، پوزیشننگ اور شاٹ سلیکشن زیادہ اہم ہوجائے۔

اعصام الحق کی دوسری مسلسل مکسڈ ڈبلز عالمی فتح خاص طور پر قابل توجہ ہے۔

مکسڈ ڈبلز میں صرف انفرادی مہارت کافی نہیں ہوتی بلکہ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان فوری رابطہ، نیٹ پر ردعمل، سروس ریٹرن اور اہم پوائنٹس پر درست فیصلے کامیابی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ پرتگال کی ٹاپ سیڈ جوڑی کو فائنل میں شکست دینا اس کامیابی کی اہمیت مزید بڑھاتا ہے۔

دوسری طرف عقیل خان اور اعصام الحق کا 45+ مینز ڈبلز میں سلور جیتنا بتاتا ہے کہ ان کی شراکت داری اب بھی عالمی سطح پر مؤثر ہے۔ پاکستان کا ٹیم مقابلے میں سلور حاصل کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ قومی سطح پر تجربہ کار کھلاڑیوں کو یکجا کرکے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آرمی چیف کی میزبانی میں اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کے اعزاز میں تقریب

اعصام الحق پاکستان کے ان نمایاں ٹینس کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے عالمی ڈبلز مقابلوں میں طویل عرصے تک ملک کی نمائندگی کی۔ وہ پاکستان ٹینس فیڈریشن کی قیادت بھی کر رہے ہیں اور ملک میں ٹینس کے فروغ اور نئی نسل کے کھلاڑیوں کو آگے لانے پر زور دیتے رہے ہیں۔

عقیل خان بھی پاکستان کے تجربہ کار ترین ٹینس کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں اور کئی برس تک ڈیوس کپ میں قومی ٹیم کا اہم حصہ رہے ہیں۔ دونوں کی شراکت داری پاکستان کے ٹینس منظرنامے کی سب سے نمایاں ڈبلز شراکت داریوں میں شمار ہوتی ہے۔

2025 میں بھی پاکستان نے ماسٹرز عالمی مقابلوں میں نمایاں کارکردگی دکھائی تھی اور اعصام الحق و عقیل خان نے 45+ مینز ڈبلز میں عالمی اعزاز حاصل کیا تھا۔ آئی ٹی ایف کے مطابق پاکستان نے 2025 میں ماسٹرز ورلڈ ٹیم چیمپیئن  شپ میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی ماسٹرز ٹینس میں موجودگی محض ایک وقتی کامیابی نہیں بلکہ مسلسل بہتر ہونے والی کارکردگی کا حصہ ہے۔

Related Articles