پاکستان کے صحت کے نظام میں اے آئی انقلاب،اے آئی تشخیصی نظام لانے کی تیاری

پاکستان کے صحت کے نظام میں اے آئی انقلاب،اے آئی تشخیصی نظام لانے کی تیاری

وفاقی حکومت وزیراعظم ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت مصنوعی ذہانت  پر مبنی جدید تشخیصی نظام متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں بیماریوں کی بروقت اور زیادہ درست تشخیص کو ممکن بنانا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق اے آئی پر مبنی یہ تشخیصی نظام ملک کے 1,100 سرکاری اور نجی اسپتالوں میں نصب کیا جائے گا، جس سے تقریباً 20 کروڑ پاکستانیوں کو کینسر، اعصابی امراض اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کی تیز اور زیادہ درست تشخیص کی سہولت میسر آئے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ جدید اے آئی ٹیکنالوجی نہ صرف تشخیص کے عمل کو مؤثر بنائے گی بلکہ طبی اخراجات میں کمی لانے اور حکومت کے اربوں روپے بچانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستانی اے آئی ٹیلنٹ عالمی کمپنیوں کی توجہ کا مرکز,عالمی کمپنی کا بڑا اعتراف

علی بابا گروپ سے معاہدہ متوقع

ذرائع کے مطابق وزیراعظم ہیلتھ کارڈ پروگرام اور علی بابا گروپ کے درمیان اس منصوبے کے لیے آئندہ ماہ معاہدہ متوقع ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے علی بابا گروپ کے سربراہ کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی ہے۔

اس سے قبل پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے بتایا تھا کہ علی بابا سے وابستہ ڈیمواکیڈمی اور اسکائی 47  پاکستان کے بڑے شہروں میں اے آئی پر مبنی بیماریوں کی اسکریننگ سسٹمز نصب کریں گے۔

ملک بھر میں مرحلہ وار نفاذ

منصوبے کے پہلے مرحلے میں اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں اے آئی تشخیصی نظام متعارف کرایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں :فائیو جی اسمارٹ فونز کی مقامی پیداوار میں تیزی، صارفین کے لیے خوشخبری

وفاقی حکومت وزیراعظم ہیلتھ کارڈ پروگرام پر سالانہ تقریباً 10 ارب روپے خرچ کرتی ہے، جبکہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان بھی اپنے اپنے ہیلتھ کارڈ پروگراموں پر اربوں روپے سالانہ خرچ کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے صحت کے شعبے کی کارکردگی بہتر ہوگی، بیماریوں کی جلد تشخیص ممکن ہوگی اور سرکاری اسپتالوں پر بوجھ میں بھی کمی آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں :آئی فون صارفین کے لیے واٹس ایپ کا نیا کلاؤڈ بیک اپ فیچر تیار

پنجاب میں مفت کینسر اسپتال

دوسری جانب پنجاب کے وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ زیر تعمیر نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ سینٹر پاکستان کا پہلا مکمل سرکاری اور مفت کینسر اسپتال ہوگا، جہاں کسی بھی مریض کو علاج سے محروم نہیں رکھا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ تیسرے اور چوتھے درجے کے کینسر میں مبتلا مریضوں کو بھی اس اسپتال میں مفت علاج فراہم کیا جائے گا۔

editor

Related Articles