اندرون و بیرون ملک کہیں بھی استعمال کریں، پاکستان کا پہلا عالمی خصوصیات کا حامل’ڈیبٹ کارڈ ‘ لانچ

اندرون و بیرون ملک کہیں بھی استعمال کریں، پاکستان کا پہلا عالمی خصوصیات کا حامل’ڈیبٹ کارڈ ‘ لانچ

پاکستان میں ڈیبٹ کارڈ جاری کرنے والے سب سے بڑے بینک ’ایچ بی ایل‘ نے ملکی ادائیگیوں کے نظام ’پے پاک‘ اور ’یونین پے انٹرنیشنل‘ کے اشتراک سے پاکستان کا پہلا ’کو بیج ڈیبٹ کارڈ‘ متعارف کروا دیا ہے جو مقامی اور عالمی سطح پر کام کرے گا۔

تقریبِ رونمائی

کراچی میں واقع ایچ بی ایل ٹاور میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اس نئے کارڈ کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ سےادائیگی کرنے والوں کیلئےاچھی خبر

یہ نیا ڈیبٹ کارڈ ’ون لنک‘ کے زیرِ انتظام چلنے والے پاکستان کے پہلے ملکی ادائیگیوں کے نیٹ ورک ’پے پاک ‘  اور چین کے عالمی مالیاتی ادارے ’یونین پے انٹرنیشنل‘ کے ملاپ سے تیار کیا گیا ہے۔

کارڈ کی منفرد خصوصیت

یہ ایک ’ڈوئل انٹرفیس‘ کارڈ ہے جس کے تحت ایک ہی پلاسٹک کارڈ پر دو مختلف نیٹ ورک فعال ہوں گے۔

فوائد

 اس کارڈ کے ذریعے صارفین پاکستان کے اندر خریداری اور اے ٹی ایم کے لیے ’پے پاک‘ کا سستا نیٹ ورک استعمال کر سکیں گے، جبکہ بیرونِ ملک سفر یا آن لائن بین الاقوامی خریداری کے لیے ’یونین پے‘ کے عالمی نیٹ ورک سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

تقریب میں گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد، ایچ بی ایل کے صدر اور سی ای او محمد ناصر سلیم، عوامی جمہوریہ چین کے کمرشل کونسلر لی یونگ، ایچ بی ایل کے جنرل مینیجر عامر قریشی، یونین پے انٹرنیشنل کے کنٹری ہیڈ ندیم ہارون اور ون لنک کے سی ای او نجیب اگراوالا سمیت مالیاتی شعبے کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

ایچ بی ایل، پے پاک اور پاک چین مالیاتی تعلقات

یہ اشتراک کوئی اچانک اٹھایا گیا قدم نہیں بلکہ ایچ بی ایل کی پے پاک اور یونین پے کے ساتھ طویل المدت شراکت داری کا تسلسل ہے۔

پے پاک شراکت داری

 ایچ بی ایل پے پاک کارڈز کا بانی شراکت دار ہے اور اس وقت ملک میں پے پاک کارڈز جاری کرنے اور اسے قبول کرنے والا سب سے بڑا بینک ہے۔

یونین پے کا سفر

ایچ بی ایل 2013 سے پاکستان میں یونین پے کارڈز جاری کر رہا ہے۔ یونین پے چین کا قائم کردہ دنیا کا ایک بڑا برانڈ ہے جو 2002 میں بنا تھا۔

پاک چین مالیاتی کوریڈور

ایچ بی ایل چین میں کام کرنے والا واحد پاکستانی بینک ہے جس کی شاخیں بیجنگ اور ارومچی میں موجود ہیں۔

مزید پڑھیں:آئی ایم ایف کی نئی شرط، خریداری ہو گی اب کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ سے

ایچ بی ایل نے پاکستان کے پہلے ’پانڈا بانڈ‘ کے اجراء میں کلیدی کردار ادا کیا اور اسے آنے والے سال 2026-2027 کے لیے ’ایس سی او انٹر بینک کنسورشیم‘ کی صدارت کے لیے بھی نامزد کیا گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کا وژن

 یہ اقدام اسٹیٹ بینک کے اس وژن کے عین مطابق ہے جس کا مقصد ’پے پاک ‘ کو ایک محفوظ، سستا اور ہر جگہ قبول ہونے والا ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام بنانا ہے۔

کو بیج کارڈ کے معیشت اور صارفین پر اثرات

اس کارڈ کا اجرا پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا جس کے دور رس اثرات درج ذیل ہیں

زرِ مبادلہ کی بچت

 عام طور پر بین الاقوامی کارڈز (جیسے ویزا یا ماسٹر کارڈ) کے استعمال پر پاکستان کو ڈالرز کی شکل میں بھاری فیسیں باہر بھیجنی پڑتی ہیں۔ پے پاک کے مقامی نیٹ ورک کے استعمال سے ملک کا قیمتی زرِ مبادلہ بچے گا۔

سستی بینکاری خدمات

پے پاک کے مقامی نیٹ ورک کی وجہ سے بینکوں کو کم لاگت آئے گی جس کا براہِ راست فائدہ عام صارفین کو کم سالانہ فیسوں کی صورت میں ملے گا۔

عالمی رسائی کی رکاوٹ کا خاتمہ

 اس سے قبل پے پاک کارڈ ہولڈرز بیرونِ ملک کارڈ استعمال نہیں کر سکتے تھے، لیکن یونین پے کی شمولیت نے اب پاکستانی صارفین کے لیے عالمی خریداری کے دروازے کھول دیے ہیں۔

پاک چین اقتصادی ہم آہنگی

 بیجنگ اور ارومچی میں ایچ بی ایل کی موجودگی اور اب یونین پے کے ساتھ اس گہرے اشتراک سے دونوں ممالک کے تجارتی طبقے کو لین دین میں انتہائی سہولت ملے گی، جو مستقبل کے ‘سی پیک’ منصوبوں کے لیے بھی مددگار ثابت ہوگی۔

Related Articles