پاکستانی اے آئی ٹیلنٹ عالمی کمپنیوں کی توجہ کا مرکز,عالمی کمپنی کا بڑا اعتراف

پاکستانی اے آئی ٹیلنٹ عالمی کمپنیوں کی توجہ کا مرکز,عالمی کمپنی کا بڑا اعتراف

پاکستانی مصنوعی ذہانت کے ماہرین تیزی سے عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں، جبکہ لاہور میں قائم انجینئرنگ ٹیمیں دنیا بھر میں لاکھوں صارفین کے لیے جدید اے آئی مصنوعات تیار کر رہی ہیں۔

امریکی اے آئی اسٹارٹ اپ  نیکٹار سوشل کی شریک بانی مصباح عرائزی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ کمپنی نے ابتدا میں پاکستان میں سرمایہ کاری کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا تھا، تاہم یہاں موجود اعلیٰ معیار کے انجینئرنگ ٹیلنٹ اور سازگار کام کے ماحول نے انہیں اپنی سرگرمیاں پاکستان تک بڑھانے پر آمادہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:اب اسپاٹیفائی سے چیٹ بھی کریں، نیا اے آئی فیچر متعارف

حال ہی میں 30 ملین ڈالر کی سیریز اے فنڈنگ حاصل کرنے والی کمپنی کا لاہور انجینئرنگ سینٹر اس وقت وہ بنیادی اے آئی ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو ہر ہفتے دنیا بھر میں ایک کروڑ سے زائد برانڈ گفتگوؤں کو طاقت فراہم کرتی ہے۔

مصباح عرائزی کے مطابق لاہور اب کمپنی کے اہم انجینئرنگ مراکز میں شامل ہے، جہاں پاکستانی انجینئرز سلیکون ویلی اور نیویارک میں موجود ٹیموں کے ساتھ ایک ہی کوڈ بیس، پروڈکشن سسٹمز اور اے آئی مصنوعات پر کام کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:عوامی تنقید رنگ لے آئی، میٹا نے نیا اے آئی فیچر واپس لے لیا

انہوں نے کہا کہ اگرچہ کمپنی کی سینئر انجینئرنگ اور پروڈکٹ لیڈرشپ اب بھی امریکا کے بے ایریا میں موجود ہے، لیکن اس کا مقصد پاکستانی نوجوان انجینئرز کو عالمی معیار کی رہنمائی اور عملی تجربہ فراہم کرکے مستقبل کے ٹیکنالوجی رہنما تیار کرنا ہے۔

مصباح عرائزی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کئی باصلاحیت اے آئی انجینئرز بہتر مواقع کی تلاش میں بیرون ملک چلے جاتے ہیں، تاہم عالمی معیار کی مصنوعات پر کام کرنے کا یہی تجربہ ملک کے ٹیکنالوجی شعبے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آئی فون صارفین کے لیے واٹس ایپ کا نیا کلاؤڈ بیک اپ فیچر تیار

ان کے مطابق صرف سرمایہ کاری سے پاکستان کا اے آئی شعبہ ترقی نہیں کرے گا، بلکہ عالمی معیار کے انجینئرنگ کلچر، تجربہ کار رہنماؤں، بین الاقوامی صارفین اور بڑے پیمانے پر سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کا عملی تجربہ ہی دیرپا ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے بارے میں موجود تاثر اور حقیقت کے درمیان فرق ہے۔ کئی عالمی کمپنیاں اب بھی پاکستان کو نظر انداز کرتی ہیں، لیکن موٹوو،کریم نیکٹر وشل جیسی کمپنیوں نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان عالمی معیار کی انجینئرنگ ٹیمیں تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈیپ سیک کے بانی نے اے آئی دنیا میں نئی تاریخ رقم کر دی

مصباح عرائزی کے مطابق پاکستان کے لیے فوری اور حقیقت پسندانہ ہدف یہ ہونا چاہیے کہ وہ دنیا کا ایک اہم اے آئی ٹیلنٹ ہب بنے۔ اس مقصد کے لیے مستحکم قوانین، دانشورانہ املاک کا مؤثر تحفظ، کاروبار دوست ماحول اور ایسی ٹیکس پالیسیاں ضروری ہیں جو باصلاحیت انجینئرز اور اسٹارٹ اپ بانیوں کو ملک میں رہ کر کام کرنے کی ترغیب دیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی انجینئرز پہلے ہی دنیا بھر میں لاکھوں افراد کے استعمال میں آنے والی اے آئی مصنوعات کی تیاری میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہی صلاحیت پاکستان کے اپنے ٹیکنالوجی اور جدت کے نظام کو بھی مضبوط بنائے۔

editor

Related Articles