عوامی حقوق کا لبادہ اور ’را‘ سے وفاداریاں؟ سردار امان کی پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی اور کھلی دہشتگردی کا اصل محرک بے نقاب

عوامی حقوق کا لبادہ اور ’را‘ سے وفاداریاں؟ سردار امان کی پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی اور کھلی دہشتگردی کا اصل محرک بے نقاب

آزاد کشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے ممبران اپنی حد سے تجاوز کرنے لگے۔ حال ہی میں ممبر کالعدم ایکشن کمیٹی سردار امان کی پاک فوج کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے پیچھے خفیہ ہاتھ سامنے آ گیا۔

ذرائع کے مطابق ممبر کالعدم ایکشن کمیٹی سردار امان نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ایک سینئر افسر سے خفیہ ملاقات کی، جس میں پاکستان مخالف تحریک کو مزید مضبوط کرنے پر بات چیت ہوئی۔

ذرائع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سینئر افسر کے ساتھ ہونے والی اس خفیہ ملاقات میں سردار امان کے چند ساتھی بھی شامل تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سینئر ’را‘ افسر نے سردار امان اور اس کے ساتھیوں کی پاکستان مخالف بیانیہ بنانے پر کارکردگی کو سراہا اور مزید تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے کرنسی سے بھرے ہوئے بیگ بھی تھمائے۔

ذرائع کے مطابق سردار امان نے خفیہ ملاقات میں سینئر افسر کو پاکستان مخالف تحریک مزید تیز کرنے کی یقین دہانی کروائی اور واپسی پر احتجاجی دھرنے کے اسٹیج سے پاک فوج کے خلاف بدزبانی کا استعمال کیا۔

ذرائع کے مطابق سردار امان نے اپنی تقریر میں کہا کہ ورنہ جو کچھ بلوچ میں ہواوہ ہم  یہاں راولاکوٹ میں بھی کر سکتے ہیں۔ سردار امان نے اپنی تقریر میں بلوچ میں سکیورٹی فورسز پر حملے کا بھی اعتراف کر لیا۔

سردار امان نے احتجاجی دھرنے سے خطاب میں سکیورٹی فورسز کے خلاف بدکلامی سمیت حملے کی بھی دھمکی دی، جو بھارتی خفیہ ایجنسی کے ساتھ خفیہ ملاقات میں طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کی ایک کڑی ہے۔

سردار امان کا کالعدم ایکشن کمیٹی کے اسٹیج پر سکیورٹی فورسز پر مزید حملوں کا اعلان ریاست میں انتشار اور کھلی دہشت گردی کروانے کی ایک مذموم کوشش ہے۔

پیسے کی چمک تھی کہ سردار امان نے دھرنے کے اسٹیج سے پاک فوج کے خلاف زہر اگلا اور سکیورٹی فورسز پر مزید حملوں کی گیدڑ بھبکیاں دے کر اپنے بیرونی آقاؤں کے ساتھ کیے گئے گھناؤنے معاہدے کی تکمیل کی۔

ریاستی اداروں پر حملوں کا اعلانیہ اعتراف اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ ایک کروڑ روپے کے انعام یافتہ اس مطلوب شرپسند کا مقصد عوام کی فلاح نہیں، بلکہ خطے کو خانہ جنگی کی آگ میں جھونکنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے میں، جب سکیورٹی فورسز پر حملوں کا اعلان کیا جا رہا ہو، ریاست کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ان کے خلاف ایکشن لے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ سردار امان کے بیانات مزید انتشار پھیلانے کی تیاری ہیں۔ اس دہشت گردی کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ عوام ان کے شر سے محفوظ رہیں اور بھارتی مذموم مقاصد کو ناکام بنایا جا سکے۔

خیال رہے کہ آزاد جموں و کشمیر حکومت نے جون 2026 میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت کالعدم قرار دیتے ہوئے تنظیم کا نام فرسٹ شیڈول میں شامل کیا تھا۔

حکومت نے تنظیم پر ریاست کے امن، سلامتی اور معمولاتِ زندگی کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا، جبکہ کمیٹی اور اس کے حامی حکومتی مؤقف کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ آزاد کشمیر حکومت نے جون میں سردار امان خان سمیت کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ چار افراد کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات فراہم کرنے پر فی کس ایک کروڑ روپے انعام مقرر کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

دیگر مطلوب افراد میں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری اور خواجہ مہران ارشد شامل تھے۔

Related Articles