ماہرینِ فلکیات نے شمسی نظام سے باہر ایک نیا ایکسوپلینیٹ ’بیٹا پکٹورس ڈی‘ دریافت کر لیا ہے، جو زمین سے براہِ راست تصویربندی کیے جانے والے سیاروں میں اب تک کا سب سے مدھم سیارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دریافت دی ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز میں شائع ہونے والی نئی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔
تحقیق کے شریک سربراہ اور یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے ماہر فلکیات بین سٹلیف کے مطابق یہ دریافت مکمل طور پر غیر متوقع تھی۔ ان کے بقول تحقیقاتی ٹیم دراصل بیٹا پکٹورس بی کا مشاہدہ کر رہی تھی تاکہ وقت کے ساتھ اس میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جا سکے، تاہم تصاویر کے تجزیے کے دوران ایک اور نامعلوم سیارہ سامنے آ گیا۔
تحقیق کے دوسرے شریک سربراہ مارکس بونسے نے بتایا کہ نئی شے کی موجودگی کا شبہ ہونے پر ٹیم نے یورپی جنوبی رصدگاہ کے محفوظ شدہ ریکارڈ کا جائزہ لیا، جہاں کم از کم 11 سال پرانی تصاویر میں بھی یہی سیارہ موجود تھا، مگر اس وقت اس کی شناخت ممکن نہ ہو سکی تھی۔ ان کے مطابق بیٹا پکٹورس ڈی، بیٹا پکٹورس بی کے مقابلے میں تقریباً 100 گنا زیادہ مدھم ہے۔
تحقیق کی شریک مصنفہ اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی ماہر فلکیات جین برکبی نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بیٹا پکٹورس ڈی گزشتہ ایک دہائی سے سائنس دانوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔
یہ سیارہ زمین سے تقریباً 63 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور مشتری و زحل کی طرح ایک دیو ہیکل گیس سیارہ ہے۔ بیٹا پکٹورس نظام میں پہلے سے موجود بیٹا پکٹورس بی اور بیٹا پکٹورس سی بھی گیس دیو سیارے ہیں، جبکہ نیا دریافت ہونے والا سیارہ ان دونوں کے مقابلے میں اپنے ستارے سے زیادہ فاصلے پر گردش کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اتنے مدھم سیارے کی براہِ راست تصویر حاصل کرنا انتہائی مشکل کام ہے، کیونکہ اپنے روشن ستارے کی چمک کے باعث ایسے سیارے عام طور پر نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ اسی لیے اس دریافت کو براہِ راست تصویربندی کی تکنیک میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو کے سائنس دان ایڈن گبز کی سربراہی میں ایک الگ تحقیقاتی ٹیم نے بھی جیمز ویب خلائی دوربین کی مدد سے اسی سیارے کو آزادانہ طور پر دریافت کیا، جس سے اس کی موجودگی کی مزید تصدیق ہو گئی۔ دونوں تحقیقی مطالعات دی ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز میں شائع ہوئے ہیں۔