بھارت کا ایک اور پروپیگنڈا بے نقاب، ایمنسٹی کی فینکس کیمپ بارے رپورٹ کی اصل کہانی سامنے آگئی

بھارت کا ایک اور پروپیگنڈا بے نقاب، ایمنسٹی کی فینکس کیمپ بارے رپورٹ کی اصل کہانی سامنے آگئی

 بھارت کا پاکستان کیخلاف ایک اور پروپیگنڈہ بے نقاب ،ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے فینکس کیمپ حملے کے حوالے سے جاری کی گئی رپورٹ کی اصل کہانی سامنے آگئی

رپورٹ بظاہر ازابیلا لیز (Isabella Leesse) کی تحریر کردہ ظاہر کی گئی ہے تاہم حقیقت میں اسے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جنوبی ایشیا کے لیے ریجنل ڈائریکٹر، سمریتی سنگھ (Smriti Singh) نے تیار کیا تھا ۔ یہ رپورٹ را کی جانب سےپاکستان کیخلاف محض کھلم کھلا پروپیگنڈہ ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :پاک فوج کے اعلیٰ افسر کے بارے میں بھارتی و افغانی سوشل میڈیا کا من گھڑت پروپیگنڈا بے نقاب

دستاویز دراصل بھارتی خفیہ ادارے را (RAW) کے پاکستان مخالف بیانیے کو تقویت دینے کے لیے تیار کی گئی اور اسے انسانی حقوق کی رپورٹ کا تاثر دے کر پیش کیا گیا۔ اس کا مقصد فینکس کیمپ حملے کے تناظر میں پاکستان کے خلاف عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنا تھا۔ رپورٹ کے ذریعے پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر ایک مخصوص تاثر قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔

دوسری جانب پاکستان نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم کے حالیہ الزامات اس کی ساکھ، غیرجانبداری اور تحقیقی معیار پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق پاکستان کو بین الاقوامی قوانین کے تحت سرحد پار سے ہونے والی مسلسل دہشتگردی کے خلاف اپنے دفاع کا مکمل اور تسلیم شدہ حق حاصل ہے۔ اسی قانونی حق کے تحت پاکستان صرف مصدقہ دہشتگرد ٹھکانوں کے خلاف مستند انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتا ہے جن کا مقصد شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :بلی تھیلے سےباہر آگئی ،بھارتی میڈیا نورین نیازی کے بیان کو بڑھا چڑھا کرپیش کرنے لگا

دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں زمینی حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے یکطرفہ رپورٹس مرتب کرنا نہ صرف دہشتگردی کے خلاف عالمی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے بلکہ خطے کی حقیقی سیکیورٹی صورتحال کی درست عکاسی بھی نہیں کرتا۔
دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل پاکستان نے اس عفریت کے خلاف بھاری جانی و مالی قربانیاں دی ہیں اس لیے کسی بھی رپورٹ میں زمینی حقائق، دستیاب شواہد اور پاکستان کے مؤقف کو متوازن انداز میں شامل کیا جانا ضروری ہے۔

editor

Related Articles