ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک یا اس کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایران اپنی سرزمین پر ہونے والے کسی بھی حملے کو بلا جواب نہیں چھوڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران یا اس کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کسی بھی جارحیت کا فوری، بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں :ایران امریکہ عبوری معاہدے کی بحالی کے لیے نئی تجویز سامنے آ گئی
عباس عراقچی نے مزید خبردار کیا کہ ایسی کسی بھی جارحیت میں معاونت کرنے والے تمام فریق بھی ایران کی نظر میں جائز ہدف تصور کیے جائیں گے۔ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے اپنے تین روز قبل دیے گئے بیان کو سوشل میڈیا پر دوبارہ جاری کیا۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے تین روز قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کو ایران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔
Our defense doctrine is clear: eye for an eye.
Any aggression against Iran, including our infrastructure, will compel a powerful and decisive response.
Those who contribute to such aggression, whatever the kind of support, will also be considered as legitimate targets.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 22, 2026

