ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ بدستور جاری ہے جبکہ سرمایہ کاروں میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث بے چینی بھی بڑھ گئی ہے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں 3.12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 87.46 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
دوسری جانب عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ برینٹ کروڈ 3.75 فیصد اضافے کے بعد 94.76 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے جو گزشتہ کئی ماہ کی بلند ترین سطحوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی، خطے میں بڑھتی غیر یقینی صورتحال اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے خدشات عالمی توانائی منڈی پر مسلسل اثرانداز ہو رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا یا تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل کی بڑی مقدار مختلف ممالک کو منتقل کی جاتی ہے۔ اس اہم گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی کی سپلائی اور قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے اثرات دنیا بھر میں ایندھن، ٹرانسپورٹ، بجلی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں جبکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک کو اضافی مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ادھر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث پاکستان سمیت دیگر درآمدی ممالک میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس سے مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔