گاڑیاں اب ہیک بھی ہو سکتی ہیں؟جدید گاڑیوں کے لیے نیا سائبر خطرہ

گاڑیاں اب ہیک بھی ہو سکتی ہیں؟جدید گاڑیوں کے لیے نیا سائبر خطرہ

جدید گاڑیوں میں استعمال ہونے والی اوور دی ایئر ٹیکنالوجی جہاں سافٹ ویئر اپ ڈیٹس کو پہلے سے زیادہ آسان بنا رہی ہے، وہیں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ساتھ سائبر سکیورٹی کے نئے خطرات بھی سامنے آ رہے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق اوور دی ایئر ایک وائرلیس ٹیکنالوجی ہے جس کے ذریعے گاڑیوں کے سافٹ ویئر، فرم ویئر اور دیگر ڈیجیٹل سسٹمز کو ورکشاپ لے جائے بغیر ہی اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو 2012 میں ٹیسلا گاڑیاں اپنی ماڈل میں بڑے پیمانے پر متعارف کرایا، جس کے بعد دنیا بھر کی آٹو انڈسٹری نے اسے تیزی سے اپنانا شروع کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں :پی ٹی اے کا موبائل صارفین کے لیے اہم الرٹ جاری

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اوور دی ایئر اپ ڈیٹس وقت اور لاگت دونوں کی بچت کرتی ہیں، لیکن انٹرنیٹ سے منسلک ہونے کی وجہ سے گاڑیاں  سسٹمز سائبر حملوں کے خطرات سے بھی دوچار ہو سکتی ہیں۔

برطانیہ کی سوانزی یونیورسٹی کے پروفیسر سراج احمد شیخ کے مطابق، یہ ٹیکنالوجی روایتی طریقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر اور سہل ہے، تاہم اس کی سکیورٹی کو ہر صورت یقینی بنانا ضروری ہے۔

دوسری جانب سنگاپور کے سائبر سکیورٹی ماہر گیبریل لم نے خبردار کیا ہے کہ اوور دی ایئر ٹیکنالوجی قومی سلامتی کے لیے بھی ایک منفرد چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ اگر کسی غیر ملکی ہیکر یا ریاستی گروہ کو گاڑیاں  کنٹرول سسٹمز تک رسائی مل جائے تو اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :موبائل صارفین کے لیے بری خبر، کال اور انٹرنیٹ پیکجز کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

اسی خدشے کے پیش نظر ناروے، ڈنمارک اور برطانیہ سمیت کئی ممالک نے بھی اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کوئی ہیکر گاڑی کے سسٹم تک رسائی حاصل کر لے تو وہ چلتی ہوئی گاڑی کو روکنے یا اس کے مختلف فیچرز پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتا ہے۔

گزشتہ برس ناروے کی بس کمپنی روٹر نے ایک تجربے کے دوران دریافت کیا کہ ایک بس کے کنٹرول سسٹم تک موبائل نیٹ ورک کے ذریعے رسائی ممکن تھی، جس نے سائبر سکیورٹی سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے۔

یہ بھی پڑھیں:مفت چینی اے آئی نے امریکی ٹیک کمپنیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی

اس واقعے کے بعد برطانیہ اور ڈنمارک نے بھی تحقیقات کا آغاز کیا، جبکہ امریکی تھنک ٹینک امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ نے خبردار کیا کہ آٹو انڈسٹری کو سائبر حملوں اور غیر ملکی جاسوسی سے محفوظ بنانے کے لیے مضبوط حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔

ماہرین کے مطابق اوور دی ایئر ٹیکنالوجی اب صرف گاڑیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ریلوے، بحری جہازوں، ڈرونز اور صنعتی مشینری میں بھی استعمال ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے اس سے جڑے سائبر خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

ماہرین نے حکومتوں، گاڑی بنانے والی کمپنیوں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ شفاف پالیسیوں، مضبوط سائبر سکیورٹی اور مؤثر نگرانی کے نظام کو یقینی بنائیں تاکہ مستقبل میں ممکنہ سائبر حملوں سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔

editor

Related Articles