امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گئی، جبکہ توانائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال عالمی توانائی کی سلامتی اور معیشت کے لیے سنگین چیلنج بن سکتی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بین الاقوامی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 1.8 فیصد اضافے کے بعد 90.84 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ فتح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی توانائی کی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو دنیا کو تیل کی فراہمی کے حوالے سے نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی حملے ہیں۔ اسی دوران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے اور خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں نے سرمایہ کاروں کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
دوسری جانب یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کی دھمکی کے بعد بحیرہ احمر اور باب المندب کی اہم آبی گزرگاہوں میں بھی کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں جس سے عالمی تجارتی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل بردار آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے جبکہ باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والا ایک اہم بحری راستہ ہے۔ ان دونوں گزرگاہوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چین، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں یا مزید اضافہ ہوتا ہے تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ، فضائی سفر اور اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے جس سے عالمی مہنگائی میں نئی لہر آنے کا خدشہ بھی بڑھ جائے گا۔