ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے تیل کی سپلائی، آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی اور خطے کی موجودہ صورتحال پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کو تیل فروخت کرنے سے روکا گیا تو خطے میں کوئی دوسرا ملک بھی آزادانہ طور پر تیل فروخت نہیں کر سکے گا۔
باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ “جس خطے میں ایران تیل فروخت نہیں کرے گا، وہاں کوئی دوسرا بھی تیل فروخت نہیں کر سکے گا۔” انہوں نے کہا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور معاشی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ضرورت پڑنے پر اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کی سیکیورٹی کو یقینی نہ بنایا گیا تو خطے کا کوئی بھی بنیادی ڈھانچہ محفوظ نہیں رہے گا۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں خطے کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور کسی ایک ملک کی سلامتی کو نظر انداز کرنے کے نتائج پورے خطے کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی اس وقت امریکی افواج کی موجودگی کے بغیر برقرار ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے کے ممالک اپنی اہم آبی گزرگاہوں کے تحفظ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز کی صورتحال اب جنگ سے پہلے جیسی نہیں رہے گی اور خطے میں سیکیورٹی، توانائی اور بحری تجارت کے حوالے سے نئی حقیقتیں جنم لے چکی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی فضائی حملوں میں 53 افراد جاں بحق جبکہ 592 زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت کے مطابق حملوں میں مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیاتاہم مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
باقر قالیباف کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈیاں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں تناؤ برقرار رہا یا آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو اس کے اثرات عالمی خام تیل کی قیمتوں، توانائی کی سپلائی اور عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔