یورپی کمیشن نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری اور مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر ٹیکنالوجی کمپنی گوگل پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر) جرمانہ عائد کر دیا۔
یورپی کمیشن کے مطابق گوگل نے اپنے سرچ انجن میں اپنی مختلف سروسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمایاں کیا، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو سرچ نتائج میں پیچھے رکھا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر آن لائن سروسز کو زیادہ صارفین تک پہنچانے کے لیے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھایا، جو یورپی یونین کے ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔
کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے ایپ ڈویلپرز کو گوگل پلے اسٹور پر صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس میں کمی نہ آئے۔ یورپی حکام کے مطابق یہ طرزِ عمل بھی ڈیجیٹل قوانین سے متصادم ہے۔
یورپی کمیشن نے گوگل کو فیصلے پر عمل درآمد کے لیے 60 دن کی مہلت دی ہے۔ مقررہ مدت میں ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں کمپنی کو مزید مالی جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچے گا۔
یہ پہلی بار نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف سخت کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں مبینہ اجارہ داری پر کمپنی کو 4.7 ارب ڈالر جبکہ 2017 میں سرچ مارکیٹ میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر 2.8 ارب ڈالر جرمانہ کیا گیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق گوگل کے خلاف تازہ کارروائی یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ واشنگٹن پہلے ہی یورپی ڈیجیٹل پالیسیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔