فرانس یورپی یونین کا پہلا ملک بن گیا،سوشل میڈیا اور موبائل فون پر بڑی پابندی

فرانس یورپی یونین کا پہلا ملک بن گیا،سوشل میڈیا اور موبائل فون پر بڑی پابندی

فرانس کی پارلیمنٹ نے ایک اہم قانون کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔ اس قانون کی منظوری کے بعد فرانس یورپی یونین کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر اس نوعیت کی جامع پابندی منظور کی ہے۔

نئے قانون میں صرف سوشل میڈیا ہی نہیں بلکہ ہائی اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر بھی پابندی شامل ہے۔ تاہم اس قانون پر عمل درآمد سے قبل اسے فرانس کی آئینی کونسل سے منظوری لینا ہوگی، جس کے باعث اس کے نفاذ میں کچھ تاخیر ہو سکتی ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون چاہتے ہیں کہ یہ قانون نئے تعلیمی سال کے آغاز، یعنی ستمبر سے نافذ کر دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں :سام سنگ گلیکسی زی فلپ 8 موبائل، پہلے سے زیادہ ہلکا، نئے زبردست فیچرز کے ساتھ لانچ

قانون کا مقصد کیا ہے؟

فرانسیسی حکومت کے مطابق اس قانون کا بنیادی مقصد بچوں کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات، نقصان دہ مواد اور اسکرین کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے محفوظ رکھنا ہے۔ قانون کے مطابق یہ پابندی آن لائن انسائیکلوپیڈیا، تعلیمی ڈائریکٹریز اور سائنسی ویب سائٹس پر لاگو نہیں ہوگی تاکہ طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔

فرانس نے یہ قدم کیوں اٹھایا؟

فرانس کے قومی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ملک میں ہر دو میں سے ایک نوجوان روزانہ دو سے پانچ گھنٹے اسمارٹ فون استعمال کرتا ہے۔میڈیا رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 12 سے 17 سال کی عمر کے 90 فیصد بچے روزانہ انٹرنیٹ تک رسائی کے لیے اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، جبکہ 58 فیصد بچے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا کیجانب سے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹا گرام صارفین کیلئے بڑا اعلان

تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال بچوں میں اعتماد میں کمی، ذہنی دباؤ، خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق مواد، منشیات اور خودکشی جیسے خطرناک رجحانات سے آگاہی اور ان کے اثرات بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔

سب سے بڑا سوال، قانون پر عمل کیسے ہوگا؟

اس قانون کے نفاذ میں سب سے بڑا چیلنج عمر کی تصدیق  ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے کون سا نظام استعمال کریں گے۔ فرانس کا ڈیجیٹل ریگولیٹری ادارہ اس قانون پر عمل درآمد کا ذمہ دار ہوگا۔

ماہرین قانون اور ناقدین کا کہنا ہے کہ نئے صارفین کی عمر کی درست جانچ اور پہلے سے موجود کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس کی شناخت کرنا ایک پیچیدہ مرحلہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:گاڑیاں اب ہیک بھی ہو سکتی ہیں؟جدید گاڑیوں کے لیے نیا سائبر خطرہ

دنیا بھر میں بھی سخت قوانین پر غور

فرانس کا یہ اقدام دنیا بھر میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کی بڑھتی ہوئی کوششوں کا حصہ ہے۔آسٹریلیا 2024 میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن چکا ہے، جہاں قانون پر عمل نہ کرنے والی کمپنیوں پر 5 کروڑ آسٹریلوی ڈالر تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ اسپین، ڈنمارک، یونان اور برطانیہ بھی کم عمر صارفین کے لیے سوشل میڈیا قوانین سخت کرنے پر غور کر رہے ہیں، جبکہ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین بھی پورے یورپی یونین میں بچوں کے لیے مزید سخت پابندیوں کی حمایت کر چکی ہیں۔

اگرچہ فرانسیسی پارلیمنٹ نے قانون منظور کر لیا ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سوشل میڈیا کمپنیاں صارفین کی عمر کی مؤثر تصدیق کیسے کرتی ہیں، اور اس عمل میں صارفین کی پرائیویسی اور آزادی کو کس حد تک برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

editor

Related Articles