چین نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے شعبے میں ایک اور اہم پیش رفت کرتے ہوئے ایسی نئی ٹیکنالوجی متعارف کرا دی ہے، جس کے ذریعے انسان بغیر کسی جسمانی حرکت یا دماغی سرجری کے صرف اپنے خیالات سے روبوٹ کو کنٹرول کر سکتا ہے۔
شنگھائی میں منعقد ہونے والی ورلڈ اے آئی کانفرنس 2026 میں چینی کمپنی برین کو نے اپنی نئی ’برین ٹو روبوٹ‘ ٹیکنالوجی کا عملی مظاہرہ پیش کیا۔کمپنی کے مطابق اس نظام میں دماغ کے اندر کسی چپ یا امپلانٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ صارف صرف ایک ہلکا پھلکا ہیڈ سیٹ پہنتا ہے، جو دماغ کی برقی سرگرمی ریکارڈ کرتا ہے۔
اس کے بعد مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر ان سگنلز کا تجزیہ کر کے صارف کے ارادے کو سمجھتا ہے اور روبوٹ کو اسی کے مطابق حرکت کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔ کانفرنس کے دوران ہونے والے مظاہرے میں ایک روبوٹک بازو نے صرف دماغی اشاروں کی مدد سے کپ اٹھا کر حاضرین کو حیران کر دیا۔
برین کو کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی صرف روبوٹک بازو تک محدود نہیں بلکہ انسانی شکل والے روبوٹس اور روبوٹک کتوں کو بھی کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس نظام کو استعمال کرنا نسبتاً آسان ہے اور برین کمپیوٹر انٹرفیس کا کوئی تجربہ نہ رکھنے والا شخص بھی تقریباً 10 منٹ کی تربیت کے بعد صرف اپنے خیالات کے ذریعے روبوٹ چلانا سیکھ سکتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی امریکی ارب پتی ایلون مسک کی کمپنی نیورالنک سے مختلف ہے۔ نیورالنک میں دماغ کے اندر چپ نصب کرنے کے لیے سرجری ضروری ہوتی ہے، جبکہ برین کو کا نظام بیرونی ہیڈ سیٹ کے ذریعے دماغی سگنلز پڑھتا ہے، اس لیے کسی آپریشن یا امپلانٹ کی ضرورت پیش نہیں آتی۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں مؤثر اور قابل اعتماد ثابت ہوتی ہے تو جسمانی معذوری کا شکار افراد مصنوعی اعضا، روبوٹک بازو اور وہیل چیئر کو صرف ذہنی اشاروں سے چلا سکیں گے۔ اس کے علاوہ صنعت، تحقیق اور روبوٹکس کے شعبوں میں بھی انسان اور مشین کے درمیان رابطہ مزید تیز اور مؤثر ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ برین کو کی بنیاد 2015 میں رکھی گئی تھی اور اسے چین کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم کمپنی کی جانب سے اسے دنیا کا پہلا مربوط ’برین ٹو روبوٹ‘ نظام قرار دینے کے دعوے کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی کارکردگی اور بڑے پیمانے پر استعمال کے امکانات کا تعین مزید سائنسی تحقیق اور آزادانہ تجربات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔