امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ تجارتی بحری جہازوں یا ان سے متعلق ہونے والے نقصانات کا ازالہ اب امریکہ کے زیرِ قبضہ ایران کے منجمد اثاثوں سے کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ آج سے بحری جہازوں یا ان سے متعلق کسی بھی قسم کے نقصان کی ادائیگی امریکہ کے قبضے میں موجود ایرانی فنڈز سے کی جائے گی، یہ نقصانات بہت زیادہ بھی ہو سکتے ہیں، اور ہمارا ماننا ہے کہ یہی منصفانہ اور عادلانہ اقدام ہے۔”
علاوہ ازیں امریکی صدر نے ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اگر نئی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تو اس کے حملے “آپریشن ایپک فیوری” کے دوران کیے گئے حملوں سے بھی کہیں زیادہ بڑے اور شدید ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ان کے اعلان پر ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مہینوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، دونوں ممالک کے درمیان عسکری کارروائیوں، جوابی حملوں اور سخت بیانات کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کا آغاز کرتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی توانائی کی منڈی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔