ملک کے مختلف شہروں میں سوئی گیس کے کم پریشر اور غیر اعلانیہ قلت نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے ایک جانب گھروں میں گیس کی فراہمی متاثر ہونے سے کھانا پکانے سمیت روزمرہ امور میں شدید دشواری کا سامنا ہے تو دوسری جانب متبادل ایندھن ایل پی جی بھی مہنگی ہونے کے ساتھ کئی علاقوں میں مبینہ طور پر سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کی جا رہی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ صبح اور شام کے اوقات میں گیس کا پریشر انتہائی کم ہو جاتا ہے جبکہ بعض علاقوں میں کئی کئی گھنٹے گیس دستیاب ہی نہیں ہوتی۔ اس صورتحال کے باعث ہزاروں خاندان کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی سلنڈرز استعمال کرنے پر مجبور ہیں جس سے ان کے ماہانہ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
صارفین کے مطابق مختلف شہروں اور مارکیٹوں میں ایل پی جی 400 سے 430 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے جبکہ سرکاری طور پر اس کی قیمت 241 روپے فی کلو مقرر ہے۔ شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ کئی علاقوں میں ایل پی جی مبینہ طور پر بلیک میں فروخت کی جا رہی ہے اور متعلقہ اداروں کی جانب سے مؤثر کارروائی نظر نہیں آ رہی۔
عوام کا کہنا ہے کہ وہ ایک طرف سوئی گیس کے باقاعدگی سے بل ادا کر رہے ہیں، لیکن گیس نہ ہونے کے باعث انہیں مہنگے داموں ایل پی جی بھی خریدنا پڑ رہی ہے۔ اس دوہرے مالی بوجھ نے خصوصاً متوسط اور سفید پوش طبقے کے لیے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔
شہریوں نے شکایت کی کہ حالیہ مہنگائی کے دور میں اشیائے خورونوش بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب گیس کا بحران بھی ان کی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر گیس کی فراہمی معمول کے مطابق نہیں ہو سکتی تو کم از کم ایل پی جی کو سرکاری نرخ پر یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوئی گیس کی طلب میں اضافے پیداوار میں کمی اور تقسیم کے نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث کئی علاقوں میں کم پریشر کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے جبکہ ایسے حالات میں ایل پی جی کی طلب بڑھنے سے بعض مقامات پر ناجائز منافع خوری بھی دیکھنے میں آتی ہے۔
شہریوں نے وفاقی حکومت اوگرا اور متعلقہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سوئی گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے ایل پی جی کی سرکاری قیمت پر فروخت پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے اور ذخیرہ اندوزی و ناجائز منافع خوری کے خلاف فوری کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے