آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے ابتدائی مراحل کے نتائج سامنے آنے کے بعد حکومت سازی کی دوڑ دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ میرپور اور مظفرآباد ڈویژن کے بیشتر حلقوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) برتری حاصل کیے ہوئے ہے جس کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال زور پکڑ گیا ہے کہ آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت کس جماعت کی ہوگی۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مجموعی طور پر 53 نشستیں ہیں ان میں 41 نشستوں پر براہِ راست انتخابات ہوتے ہیں جبکہ 12 نشستیں مہاجرینِ جموں و کشمیر کی نمائندگی کے لیے مختص ہیں۔ آئینی طریقہ کار کے مطابق خواتین ٹیکنوکریٹس علما اور اوورسیز کشمیریوں کی نمائندگی بھی مخصوص نشستوں کے ذریعے مکمل کی جاتی ہے جن کی تقسیم براہِ راست منتخب نشستوں میں جماعتوں کی پوزیشن کے مطابق کی جاتی ہے۔
حکومت بنانے کے لیے اسمبلی میں کم از کم 27 ارکان کی حمایت درکار ہوگی یہی وجہ ہے کہ براہِ راست انتخابات کے مکمل نتائج آنے کے بعد آزاد امیدواروں مہاجر نشستوں اور مخصوص نشستوں کی تقسیم حکومت سازی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
ابتدائی نتائج کے مطابق مسلم لیگ اب تک 23 نشستیں جیت چکی ہے ۔پیپلز پارٹی نے 10 نشستوں پر کامیابی سمیٹی ہے اب ن لیگ کو آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کیلئے صرف 4 سیٹیں درکار ہیں ۔ میرپور ڈویژن میں مسلم لیگ (ن) 9 نشستیں جیت کر واضح برتری حاصل کر چکی ہے جبکہ مظفرآباد ڈویژن میں بھی ن لیگ کی مجموعی پوزیشن کو مزید مضبوط کیا ہے دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں بھی کئی حلقوں میں سخت مقابلہ کر رہی ہیں جس کے باعث حتمی سیاسی تصویر ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوئی۔
دو مرحلوں کے غیر سرکاری نتائج میں نمایاں برتری حاصل کرنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر میں اگلے مرحلے کے انتخابات اور ممکنہ حکومت سازی دونوں محاذوں پر اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔
پارٹی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی مرکزی اور آزاد کشمیر کی قیادت نے ابتدائی مشاورت کا آغاز کر دیا ہے جس میں آئندہ انتخابی حکمت عملی باقی حلقوں میں انتخابی مہم اور ممکنہ حکومت سازی کے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت ایک جانب باقی نشستوں پر کامیابی یقینی بنانے کے لیے انتخابی رابطوں کو وسعت دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب ابتدائی سطح پر رابطوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے تاکہ حتمی نتائج کے بعد حکومت سازی کے لیے مطلوبہ عددی اکثریت حاصل کی جا سکے۔ پارٹی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ موجودہ نتائج مسلم لیگ (ن) کے حق میں عوامی اعتماد کا اظہار ہیں اور اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ حکومت بنانے کی پوزیشن مزید مستحکم ہو جائے گی۔