سپریم کورٹ آف پاکستان کا بچوں کے نان و نفقہ کے تعین سے متعلق بڑا فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان کا بچوں کے نان و نفقہ کے تعین سے متعلق بڑا فیصلہ

سپریم کورٹ نے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کے تعین سے متعلق اہم اصول وضع کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالتیں بچے کی معقول ضروریات، والد کی مالی استطاعت، آمدنی اور سماجی حیثیت کو مدنظر رکھیں گی، جبکہ نچلی عدالتوں کی مقرر کردہ رقم میں مداخلت صرف اس وقت کی جا سکتی ہے جب فیصلہ من مانی، غیر معقول یا قانون کے خلاف ہو۔

عدالتِ عظمیٰ نے یہ فیصلہ مسما شاہین نواز کی اپیل کی اجازت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سنایا اور سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ نچلی عدالتوں کے فیصلوں میں کوئی قانونی خامی یا شواہد کا غلط جائزہ نہیں پایا گیا، اس لیے آئین کے آرٹیکل 185(3) کے تحت مداخلت کی گنجائش موجود نہیں ہے۔

درخواست گزار کا مؤقف اور عدالتی کارروائی

درخواست گزار شاہین نواز نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا تھا کہ بچے کے والد بنگلا دیش میں ایک ٹیکسٹائل کمپنی میں منیجر ہیں اور اچھی تنخواہ وصول کرتے ہیں، اس لیے نابالغ بچے کا ماہانہ نان و نفقہ 40 ہزار روپے مقرر کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:فوت شدہ سرکاری ملازم کی پنشن اور مراحات کس کو ملیں گی؟، سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ سنا دیا

تاہم عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد پایا کہ اپیلیٹ کورٹ اور ہائی کورٹ نے والد کی آمدنی، مالی وسائل، کفالت کی دیگر ذمہ داریوں اور بچے کی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لے کر نان و نفقہ کا تعین کیا تھا۔

عدالت نے نوٹ کیا کہ والد اپنی پہلی شادی سے ہونے والے دو دیگر بچوں کی کفالت کا بھی ذمہ دار ہے، جس سے ان کی مالی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

اس پس منظر میں عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے نچلی عدالتوں کے فیصلوں میں کسی قانونی خامی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کو ثابت نہ کرنے پر اپیل کی اجازت کی درخواست مسترد کر دی۔

نان و نفقہ کے تعین کے بنیادی اصول

سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا کہ باپ پر اپنی اولاد کی کفالت قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، تاہم نان و نفقہ کی مقدار کا تعین بچے کی حقیقی ضروریات اور والد کی مالی استطاعت کے مطابق کیا جاتا ہے۔

عدالت نے اپنے حالیہ فیصلے محمد عمران باقر بنام مسما زرنین آرزو (PLD 2026 SC 170) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتیں اس معاملے میں بچے کے بہترین مفاد کو اولین ترجیح دیتی ہیں۔

فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر ڈسٹرکٹ جج نے نابالغ بچے کا نان و نفقہ 30 ہزار روپے ماہانہ مقرر کیا تھا جس میں ہر سال 15 فیصد اضافے کا بھی حکم دیا گیا اور سندھ ہائی کورٹ نے بھی اسی فیصلے کو برقرار رکھا۔

سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالتوں نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہی یہ رقم مقرر کی۔

عدالتی اصول اور قانونی تشریح

عدالت نے اپنے فیصلے میں ایک اہم قانونی اصول بھی وضع کیا کہ نچلی عدالتوں کی جانب سے مقرر کردہ نان و نفقہ کی رقم میں مداخلت صرف اسی صورت کی جا سکتی ہے جب فیصلہ واضح طور پر من مانی، غیر معقول یا قانون کے خلاف ہو۔

مزید پڑھیں:سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، شادی میں دلہن کو ملنے والے زیورات صرف اسی کی ملکیت قرار

اس اصول کے تحت سپریم کورٹ نے اس معاملے میں اپنی مداخلت سے گریز کیا اور نچلی عدالتوں کے فیصلوں کو تحفظ فراہم کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار نچلی عدالتوں کے فیصلوں میں کسی قانونی خامی، شواہد کے غلط جائزے یا اختیارات کے ناجائز استعمال کو ثابت نہیں کر سکیں، اس لیے آئین کے آرٹیکل 185(3) کے تحت مداخلت کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ یہ اصول مستقبل میں ایسے مقدمات کے فیصلوں کے لئے رہنما اصول کا درجہ اختیار کر گیا ہے۔

پس منظر اور سماجی اہمیت

اس فیصلے کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ پاکستان میں طلاق اور علیحدگی کے مقدمات میں نابالغ بچوں کے نان و نفقہ کا تعین ایک متنازع اور پیچیدہ مسئلہ رہا ہے۔ عدالتوں کو اکثر ایسے مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں والدین کے درمیان بچے کی کفالت کی رقم کو لے کر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

باپ اپنی اولاد کی کفالت کا ذمہ دار

اسلامی قانون اور پاکستانی قوانین کے مطابق، باپ اپنی اولاد کی کفالت کا ذمہ دار ہے اور اسے اپنی مالی استطاعت کے مطابق بچوں کے اخراجات پورے کرنے ہوتے ہیں۔ تاہم اس رقم کا تعین کرتے وقت عدالتیں بچے کی ضروریات، والد کی آمدنی، مہنگائی کی شرح اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھتی ہیں۔

مزید پڑھیں:سپریم کورٹ کا اپنے ملازمین کیلئے بڑا فیصلہ ، یوٹیلیٹی الاؤنس میں 100 فیصد اضافے کااعلان

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک جامع اور متوازن نقطہ نظر پیش کرتا ہے، جو نہ صرف قانونی تقاضوں کو پورا کرتا ہے بلکہ بچے کے بہترین مفاد کو بھی یقینی بناتا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ خاندانی مقدمات کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ہے۔ عدالت نے نہ صرف نان و نفقہ کے تعین کے لیے واضح معیار مقرر کیا ہے بلکہ نچلی عدالتوں کے فیصلوں میں مداخلت کے دائرہ کار کو بھی محدود کر دیا ہے، جس سے مقدمات کے طویل التوا اور غیر ضروری اپیلوں میں کمی آئے گی۔

خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک مثبت پیش رفت

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے، کیونکہ اس نے بچوں کی معقول ضروریات کو ترجیح دیتے ہوئے ایک متوازن اور منصفانہ نظام فراہم کیا ہے۔ عدالت کا یہ موقف کہ والد کی مالی استطاعت کو مدنظر رکھتے ہوئے نان و نفقہ کا تعین کیا جائے، عملی اور حقیقت پسندانہ نقطہ نظر ہے۔

Related Articles