ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ، بینک صارفین کے لیے بڑی خوشخبری

ہائیکورٹ کا اہم  فیصلہ، بینک صارفین کے لیے بڑی خوشخبری

لاہور ہائیکورٹ نے بینک صارفین کے خفیہ ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق ایک نہایت اہم قانونی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بینک صارفین کا خفیہ ڈیٹا بھی قانون کی نظر میں جائیداد (Property) ہے لہٰذا اگر کوئی بینک ملازم اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اس ڈیٹا کو افشا کرے یا غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کرے تو اس کے خلاف فوجداری بددیانتی سمیت دیگر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے بینک صارفین کے خفیہ ڈیٹا کے مبینہ غیر قانونی استعمال جعلی سمز کے اجرا اور بینک اکاؤنٹس سے کروڑوں روپے منتقل کرنے سے متعلق مقدمے میں دو ملزمان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں پر 19 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں دیا۔

عدالت نے بینک ملازم محمد عاطف کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ بادی النظر میں اس کے خلاف ایسے شواہد موجود ہیں جن کی روشنی میں اسے اس مرحلے پر ضمانت نہیں دی جا سکتی جبکہ سم فرنچائز کے مالک محمد عثمان کی بعد از گرفتاری ضمانت دس لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی نے حکومت سے مذاکرات کی دعوت قبول کر لی ، بڑی شرط سامنے آگئی

عدالت کے اہم قانونی نکات

تحریری فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ جدید بینکاری نظام میں صارفین کے خفیہ ڈیٹا تک رسائی درحقیقت ان کے مالی مفادات تک رسائی کے مترادف ہے اس لیے اس معلومات کا غیر قانونی استعمال نہایت سنگین نوعیت کا جرم ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ بینک ملازم اگر اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے صارفین کی نجی معلومات کسی تیسرے فریق تک پہنچاتا ہے یا ان معلومات کو فراڈ کے لیے استعمال کرتا ہے تو اس کے خلاف صرف سائبر قوانین ہی نہیں بلکہ پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات، خصوصاً فوجداری بددیانتی سے متعلق قوانین بھی لاگو ہو سکتے ہیں۔

مقدمہ کیسے سامنے آیا؟

عدالتی فیصلے کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی درخواست پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے مقدمہ درج کیا تھا۔

استغاثہ کے مطابق ملزمان نے بینک صارفین کا خفیہ ڈیٹا حاصل کیا، اس معلومات کی بنیاد پر جعلی سمز جاری کروائیں اور پھر انہی سمز کے ذریعے چھ مختلف شہریوں کے بینک اکاؤنٹس سے ایک کروڑ چار لاکھ روپے منتقل کیے گئے۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ ایک منظم سائبر بینک فراڈ تھا، جس میں ہر ملزم نے الگ الگ کردار ادا کیا اور فراڈ کی منصوبہ بندی باقاعدہ انداز میں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:ایزی پیسہ صارفین کے لیے اہم الرٹ

بینک ملازم کے خلاف شواہد

استغاثہ کے مطابق بینک ملازم محمد عاطف نے صارفین کے خفیہ ریکارڈ تک غیر قانونی رسائی حاصل کی اور اس معلومات کو فراڈ میں استعمال کیا جبکہ اس کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ صرف بینک ریکارڈ تک رسائی ہونا جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں اور استغاثہ کے پاس ایسا کوئی براہ راست ثبوت موجود نہیں جو اسے فراڈ سے جوڑتا ہو۔

تاہم عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ مرحلے پر محمد عاطف کے خلاف بادی النظر میں کافی شواہد موجود ہیں اس لیے اس کی ضمانت منظور نہیں کی جا سکتی۔

سم فرنچائز مالک کو ضمانت کیوں ملی؟

دوسری جانب ملزم محمد عثمان کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ مبینہ جعلی سمز ان کے مؤکل نے جاری نہیں کیں نہ اس سے کوئی موبائل ڈیوائس یا فراڈ کی رقم برآمد ہوئی اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی براہ راست ثبوت موجود ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ اس ملزم کے کردار سے متعلق مزید تفتیش اور شواہد کی جانچ ضروری ہے، اس لیے شک کا فائدہ دیتے ہوئے اسے دس لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض بعد از گرفتاری ضمانت دی جاتی ہے۔

اہم قانونی نظیر

جسٹس طارق سلیم شیخ نے اپنے فیصلے میں یہ اہم قانونی اصول بھی طے کیا کہ بینک صارفین کا خفیہ ڈیٹا بھی قانون کے تحت قابلِ تحفظ جائیداد ہے اور اس کے غیر قانونی استعمال کو معمولی خلاف ورزی نہیں سمجھا جا سکتا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ سائبر بینک فراڈ جیسے مقدمات میں ہر ملزم کے کردار کا الگ الگ جائزہ لینا ضروری ہے اور ہر شخص کی ذمہ داری کا تعین اس کے خلاف موجود شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles