بھارتی ٹی وی ڈرامے ’انوپما‘ کی مرکزی اداکارہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رہنما روپالی گنگولی اپنے ایک سوشل میڈیا بیان کے بعد شدید تنازع کا شکار ہو گئی ہیں۔
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں ایک کم عمر لڑکی وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کرتی دکھائی دی۔ تاہم اس ویڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
اسی ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے روپالی گنگولی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’وزیر اعظم کی اس طرح توہین کے نتائج ہونے چاہئیں، کاش وہ آمر ہوتے‘ ۔اداکارہ کا یہ مختصر تبصرہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا، جہاں صارفین کی جانب سے اس پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔
متعدد صارفین نے روپالی گنگولی کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اور کسی عوامی شخصیت کی جانب سے آمریت کی خواہش کا اظہار مناسب نہیں۔ بعض افراد نے مؤقف اختیار کیا کہ اختلافِ رائے اور تنقید جمہوری نظام کا بنیادی حصہ ہیں، جبکہ کچھ صارفین نے تاریخی آمروں کا حوالہ دیتے ہوئے اداکارہ کے الفاظ کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔
واضح رہے کہ روپالی گنگولی گزشتہ برس بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہوئی تھیں۔ اس کے بعد سے وہ مختلف سیاسی اور سماجی معاملات پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتی رہی ہیں۔
اس سے قبل بھی وہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حمایت میں بیانات اور ناقدین پر سخت تنقید کی وجہ سے خبروں کا حصہ بن چکی ہیں۔ تازہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں سوشل میڈیا، اظہارِ رائے کی آزادی اور سیاسی بیانات پر بحث جاری ہے۔