پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے نئی سیاسی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں اہم آئینی عہدوں کے حصول کے لیے مشاورت کا عمل تیز کردیا ہے۔
میڈ یا رپورٹس کے مطابق پیپلزپارٹی نے گورنر گلگت بلتستان کے عہدے سے متعلق حتمی فیصلہ آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے عمل تک مؤخر کردیا ہےپارٹی قیادت آزاد کشمیر کے سیاسی حالات اور حکومت سازی کے فارمولے کو سامنے رکھتے ہوئے آئینی عہدوں سے متعلق اپنی حکمت عملی طے کرے گی۔
آزاد کشمیر میں صدارت پر نظریں
نجی ٹی وی کا کہنا ہے کہ اگر آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو پیپلزپارٹی کی جانب سے صدر آزاد کشمیر کے آئینی عہدے کے حصول کی خواہش کا امکان موجود ہے۔
پارٹی کے اندر اس حوالے سے مشاورت جاری ہے اور قیادت آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج، سیاسی جماعتوں کی پوزیشن اور حکومت سازی کے فارمولے کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ کا فیصلہ کرے گی۔
اگر پیپلزپارٹی کو آزاد کشمیر میں صدارتی عہدہ حاصل نہ ہوسکا تو پارٹی کی جانب سے گورنر گلگت بلتستان کا عہدہ اپنے پاس رکھنے کے آپشن پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
اس طرح پیپلزپارٹی دونوں علاقوں میں آئینی عہدوں کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے تاکہ سیاسی مفادات اور اتحادی معاملات کے مطابق بہتر فیصلہ کیا جاسکے۔
انتخابی نتائج کے بعد حتمی فیصلہ
پیپلزپارٹی قیادت آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابی نتائج اور اس کے نتیجے میں بننے والی سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد آئینی عہدوں سے متعلق حتمی فیصلہ کرے گی۔
پارٹی قیادت اس معاملے میں جلد بازی کے بجائے مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ ممکنہ سیاسی معاملات اور حکومت سازی کے فارمولے کو سامنے رکھتے ہوئے حکمت عملی طے کرے گی۔
سیاسی رابطے اہم ہوں گے
آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے مرحلے کے دوران پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان سیاسی رابطے اور مشاورت آئینی عہدوں کے فیصلوں میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
پارٹی ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی اپنی سیاسی پوزیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں خطوں میں اپنے لیے مؤثر کردار اور مناسب آئینی عہدوں کے حصول کی کوشش کرے گی۔
حتمی فیصلہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی مشاورت کے بعد کیا جائے گا، جبکہ آزاد کشمیر میں حکومت سازی کا عمل مکمل ہونے کے بعد گلگت بلتستان کے گورنر کے عہدے سے متعلق بھی پالیسی واضح ہونے کا امکان ہے۔