اے سی کا درجہ حرارت کتنا رکھیں؟ بجلی کا بل کم کرنے کیلئے آسان طریقے جانیے

اے سی کا درجہ حرارت کتنا رکھیں؟ بجلی کا بل کم کرنے کیلئے آسان طریقے جانیے

شدید گرمی اور حبس کے باعث اس موسم میں اے سی کا طویل دورانیے تک استعمال ضرورت بن گیا ہے تاہم اے سی جتنے زیادہ گھنٹے چلتا ہے، بجلی کی کھپت میں بھی  بھی اتنا ہی اضافہ ہوتا ہے، جس کا اثر ماہ کے آخر میں بجلی کے بل پر واضح نظر آ سکتا ہے۔

ایسے میں شدید گرمی میں گھر کو ٹھنڈا بھی رکھا جائے اور اے سی کو ہر وقت پوری طاقت پر چلانے سے بھی بچا جائے کیا یہ ممکن ہے؟  جی ہاں ماہرین کے مطابق اس کا ایک اہم حل اے سی کا درجہ حرارت درست طریقے سے مقرر کرنا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اے  سی کا درجہ حرارت چند ڈگری بڑھانے سے توانائی کی کھپت کم کی جا سکتی ہے، تاہم بہت زیادہ درجہ حرارت مقرر کرنے سے گھر کا ماحول غیر آرام دہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر دن کے گرم ترین اوقات میں۔

اے سی کا درجہ حرارت بجلی کے بل پر کتنا اثر ڈالتا ہے؟

اگرچہ بجلی کا بل اے سی کی کارکردگی، گھر کے رقبے اور بیرونی درجہ حرارت سمیت کئی عوامل پر منحصر ہوتا ہے، لیکن اے سی پر مقرر کیا گیا درجہ حرارت بھی بجلی کی کھپت پر نمایاں اثر ڈالتا ہے۔

بعض ماہرین کے مطابق اے سی کا درجہ حرارت ہر ایک ڈگری بڑھانے سے توانائی کے اخراجات میں تقریباً 1 سے 3 فیصد تک بچت ہو سکتی ہے، مطلب  اے سی کو 22 ڈگری کے بجائے 26 ڈگری سینٹی گریڈ پر چلانا کم توانائی استعمال کر سکتا ہے اور بجلی کے اخراجات بھی کم ہو سکتے ہیں۔

مناسب درجہ حرارت کا انتخاب کن عوامل پر منحصر ہے؟

اے سی کے لیے ایسا کوئی ایک درجہ حرارت نہیں جو ہر شخص اور ہر گھر کے لیے یکساں موزوں ہو۔ اس کا انحصار کئی عوامل پر ہوتا ہے، جیسے  گھر میں لوگ پورا دن موجود ہوں اور مختلف سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہوں تو آرام دہ ماحول برقرار رکھنے کے لیے اے سی نسبتاً کم درجہ حرارت پر چلانا پڑ سکتا ہے۔

لیکن اگر گھر کئی گھنٹوں تک خالی رہتا ہو تو اس دوران اے سی کا درجہ حرارت بڑھانا بہتر ہے، بجائے اس کے کہ خالی گھر کو مسلسل ٹھنڈا رکھا جائے۔

تاہم انتہائی گرم دنوں میں اے سی کو مکمل طور پر بند کرنا ہر صورت میں زیادہ مؤثر نہیں ہوتا،  گھر کا درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھنے کی صورت میں واپسی پر اسے دوبارہ ٹھنڈا کرنے کے لیے اے سی کو زیادہ دیر اور زیادہ محنت کرنا پڑ سکتی ہے،  ایسے حالات میں اے سی کو مکمل بند کرنے کے بجائے اس کا درجہ حرارت بڑھانا زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔

نمی کی سطح اور وقت 

صرف درجہ حرارت ہی اس بات کا تعین نہیں کرتا کہ موسم کتنا گرم محسوس ہو رہا ہے۔ زیادہ نمی کی وجہ سے ایک ہی درجہ حرارت زیادہ گرم اور گھٹن والا محسوس ہو سکتا ہے، مثال کے طور پر 26 ڈگری سینٹی گریڈ کا درجہ حرارت خشک موسم اور زیادہ نمی والے موسم میں بالکل مختلف محسوس ہو سکتا ہے۔

خشک علاقوں میں لوگ نسبتاً زیادہ درجہ حرارت برداشت کر سکتے ہیں، جبکہ زیادہ نمی والے علاقوں میں اسی سطح کے آرام کے لیے اے سی کو کچھ کم درجہ حرارت پر چلانا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:لندن جانے والوں کیلئے اہم خبر ، پی آئی اے نے بڑا فیصلہ کرلیا

دن کے مختلف اوقات میں بیرونی درجہ حرارت بدلتا رہتا ہے اور عموماً دوپہر سے سہ پہر تک گرمی زیادہ ہوتی ہے، دن کے گرم ترین اوقات میں آرام برقرار رکھنے کے لیے اے سی کا درجہ حرارت کچھ کم کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ صبح اور شام کے نسبتاً ٹھنڈے اوقات میں درجہ حرارت بڑھا کر بھی آرام دہ ماحول برقرار رکھا جا سکتا ہے اور توانائی کی کھپت کم کی جا سکتی ہے۔

سوتے وقت اے سی کا درجہ حرارت

سونے کے دوران درجہ حرارت کے حوالے سے ترجیحات مختلف ہو سکتی ہیں،  بہت سے افراد رات کے وقت نسبتاً ٹھنڈا کمرہ پسند کرتے ہیں۔

نیند کے ماہرین کے مطابق نسبتاً کم درجہ حرارت بہتر نیند میں مددگار ہو سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اے سی کو انتہائی کم درجہ حرارت پر چلایا جائے،  زیادہ ٹھنڈا کرنے سے بجلی کی کھپت بڑھ سکتی ہے اور کمرہ ضرورت سے زیادہ سرد بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے سوتے وقت ایسا درجہ حرارت منتخب کرنا بہتر ہے جو آرام دہ ہو، لیکن ضرورت سے زیادہ ٹھنڈا نہ ہو۔

بجلی بچانے کے لیے اے سی کا بہترین درجہ حرارت کیا ہے؟

ہر گھر کے لیے ایک ہی درجہ حرارت مثالی نہیں، تاہم اے سی کو بہت کم درجہ حرارت پر چلانے کے بجائے اسے کچھ زیادہ درجہ حرارت پر مقرر کرنے سے بجلی کی کھپت کم کی جا سکتی ہے۔

عام طور پر 24 سے 26 ڈگری سینٹی گریڈ اے سی کی ایسی ابتدائی ترتیب ہو سکتی ہے جو آرام اور توانائی کی بچت کے درمیان توازن قائم کرے۔ تاہم اسے بیرونی درجہ حرارت، نمی اور گھر میں موجود افراد کے مطابق تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

 اگر آپ آرام برقرار رکھتے ہوئے اے سی کا درجہ حرارت جتنا زیادہ رکھ سکتے ہیں، اتنی ہی توانائی بچانے اور بجلی کا بل کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

editor

Related Articles