ویوز کی خاطر جنسی موضوعات کی تشہیر ،بی بی سی نے صحافت کا جنازہ نکال دیا

ویوز کی خاطر جنسی موضوعات کی تشہیر ،بی بی سی نے صحافت کا جنازہ نکال دیا

ڈیجیٹل میڈیا میں ویوز اور کلکس کی دوڑ اب اس مقام تک پہنچتی دکھائی دے رہی ہے جہاں خبر کی اہمیت، عوامی مفاد اور صحافتی اخلاقیات کو پسِ پشت ڈال کر محض وہ مواد سامنے لایا جا رہا ہے جو لوگوں کے تجسس کو بھڑکا سکے۔

بی بی سی کی جانب سے شائع کی گئی حالیہ رپورٹ اسی افسوسناک رجحان کی ایک واضح مثال ہے، جس میں ایک شخص کی انتہائی نجی زندگی اور جسمانی معاملے کو غیر ضروری تفصیلات کے ساتھ اس انداز میں پیش کیا گیا کہ صحافت کا جنازہ نکل گیا۔

ہر ذاتی معاملہ خبر نہیں ہوتا

صحافت کا مطلب یہ نہیں کہ کسی فرد کی زندگی سے متعلق ہر نجی تفصیل اٹھا کر عوام کے سامنے رکھ دی جائے،، ایک ذمہ دار صحافی کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کسی معلومات کی اشاعت واقعی عوامی مفاد میں ہے یا صرف لوگوں کی فطری تجسس پسندی سے فائدہ اٹھانے کے لیے کی جا رہی ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ میں یہی بنیادی سوال سب سے زیادہ اہم ہے، اگر مقصد کسی طبی طریقۂ کار کے خطرات سے آگاہ کرنا تھا تو اسے ماہرین، طبی شواہد اور ممکنہ نقصانات کے تناظر میں رپورٹ کیا جاسکتا تھا، لیکن انتہائی نجی تفصیلات کو نمایاں کرنا کہاں کی صحافت ہے ؟

یہ بھی پڑھیں :بی بی سی اردو میں دوہرا معیار؟ مقامی صحافی دو ماہ سے تنخواہوں سے محروم

ویوز کے لیے اخلاقیات قربان

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی بی سی کے لیے اب یہ سوال ثانوی حیثیت اختیار کرگیا ہے کہ کیا چیز صحافت کے معیار پر پوری اترتی ہے؟ اصل سوال شاید یہ رہ گیا ہے کہ کون سی چیز زیادہ ویوز حاصل کرے گی؟

یہی سوچ صحافت کے لیے خطرناک ہے،اگر ہر شرمناک، نجی یا جنسی نوعیت کے موضوع کو صرف اس لیے خبر بنا دیا جائے کہ لوگ اسے زیادہ کھولیں گے تو پھر صحافت اور سستی تفریحی ویب سائٹس کے مواد میں فرق باقی نہیں رہتا۔

سنسنی کو خبر کا نام دینا صحافت نہیں

بی بی سی کی یہ رپورٹ اس بات پر بھی سوال اٹھاتی ہے کہ ادارے میں خبر کے انتخاب اور ایڈیٹوریل معیار کا پیمانہ آخر کیا ہے؟ کسی انتہائی ذاتی معاملے کو غیر ضروری تفصیل کے ساتھ پیش کرنا نہ تو صحافت کی کوئی بڑی کامیابی ہے اور نہ ہی اسے عوامی مفاد کی رپورٹ قرار دیا جاسکتا ہے۔

صحافت میں بعض اوقات حساس موضوعات پر بات کرنا ضروری ہوتا ہے، لیکن حساس موضوع اور سنسنی خیز مواد میں واضح فرق ہوتا ہے، ذمہ دار میڈیا معلومات دیتا ہے، تجسس بیچنے کی کوشش نہیں کرتا۔

اخلاقی صحافت کا بنیادی اصول کیا کہتا ہے؟

صحافتی اصول تقاضا کرتے ہیں کہ میڈیا افراد کی نجی زندگی کا احترام کرے اور ایسی معلومات شائع کرنے سے گریز کرے جن کی اشاعت کا کوئی واضح عوامی مفاد نہ ہو، حساس موضوعات پر ذمہ دارانہ انداز اختیار کرنے اور سنسنی خیزی کے بجائے عوامی مفاد کو ترجیح دینے پر بھی زور دیا جاتا ہے۔

قارئین کو بے وقوف سمجھنا بند کرنا ہوگا

بی بی سی کی انتظامیہ شاید یہ سمجھتی ہو کہ انتہائی نجی اور چونکا دینے والی سرخیاں زیادہ ویوز لے آئیں گی، لیکن قارئین کو ہمیشہ صرف سنسنی نہیں چاہیے ہوتی،آج کا قاری یہ بھی دیکھتا ہے کہ کون سا ادارہ معتبر ہے، کون سا صحافتی معیار برقرار رکھتا ہے اور کون سا پلیٹ فارم محض کلکس کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔

ویوز عارضی کامیابی ہوسکتے ہیں، مگر ساکھ برسوں میں بنتی ہے، اگر کسی ویب سائٹ کا مواد مسلسل سنسنی، ذاتی زندگی میں مداخلت اور غیر ضروری تفصیلات کے گرد گھومنے لگے تو یہ اس ادارے کی صحافتی ترجیحات پر سنجیدہ سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

صحافت کو بازاری بنانا خطرناک رجحان

بی بی سی کی یہ رپورٹ صرف ایک خبر نہیں بلکہ ڈیجیٹل صحافت کے اس بحران کی علامت ہے جہاں خبر کی قدر کو اس کے عوامی مفاد سے نہیں بلکہ اس کی کلک ایبلٹی سے ناپنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

یہ طرزِ عمل صحافت کو بلند کرنے کے بجائے اسے انتہائی نچلی سطح پر لے جاتا ہے، لوگوں کی نجی زندگی، جسمانی معاملات اور ذاتی فیصلوں کو محض اس لیے نمایاں کرنا کہ ان سے زیادہ ویوز حاصل ہوں، ایک سنجیدہ نیوز پلیٹ فارم کے لیے قابلِ فخر بات نہیں ہونی چاہیے۔

ویوز نہیں، اعتبار اصل سرمایہ ہے

بی بی سی کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ایک سنجیدہ نیوز پلیٹ فارم بننا چاہتی ہے یا محض ایسی ویب سائٹ جس کا بنیادی مقصد ہر قیمت پر ٹریفک حاصل کرنا ہو اور دوسروں پر تنقید کرنا ہو کیونکہ صحافت میں وقتی ویوز سے زیادہ اہم قارئین کا اعتماد، ادارے کی ساکھ اور اخلاقی معیار ہوتا ہے۔

اگر کسی خبر کا سب سے بڑا جواز یہ ہو کہ لوگ اسے دیکھیں گےتو پھر سوال یہ نہیں رہتا کہ خبر کتنی اہم ہے، بلکہ سوال یہ بن جاتا ہے کہ صحافت آخر کس مقام پر آکر اپنا وقار کھو دیتی ہے؟بی بی سی کی یہ رپورٹ اسی سوال کو انتہائی شدت سے سامنے لاتی ہے،

بی بی کی جانب سے جنسی نوعیت کے مواد کے لیے باقاعدہ سیکشن مختص کیے جانے پر پاکستان میں صارفین کی جانب سے شدید اعتراضات سامنے آ ئے ہیں،قارئین کا کہنا ہے کہ نیوز پلیٹ فارم پر اس نوعیت کے مواد کی مسلسل تشہیر صحافتی ذمہ داری اور معاشرتی اقدار کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کرتی ہے۔

خبر یا فحش مواد کی تشہیر؟

صارفین کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ویب سائٹ پر ایسے حساس اور جنسی موضوعات کو مستقل جگہ دینے کا مقصد آخر کیا ہے؟اگر کسی طبی یا سماجی موضوع پر معلومات دینا مقصود ہو تو اسے ذمہ دارانہ اور معلوماتی انداز میں پیش کیا جاسکتا ہے، تاہم محض توجہ اور ویوز حاصل کرنے کے لیے جنسی نوعیت کے پہلوؤں کو نمایاں کرنا صحافت کے معیار پر سوال اٹھاتا ہے۔

ویوز کی دوڑ

بی بی سی کی ایسی رپورٹس پر صارفین کا مؤقف ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا میں کلکس اور ویوز حاصل کرنے کی دوڑ نے بعض پلیٹ فارمز کو سنسنی خیزی کی طرف دھکیل دیا ہے۔

جنسی موضوعات کو نمایاں سرخیوں اور تفصیلات کے ساتھ پیش کرنا قارئین کی توجہ حاصل کرنے کا آسان طریقہ ہوسکتا ہے، لیکن اس سے نیوز پلیٹ فارم کی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

پاکستانی قارئین کا پابندی کا مطالبہ

سوشل میڈیا پر پاکستانی قارئین کی جانب سے بی بی سی کے خلاف کارروائی اور اسے پاکستان میں بند کرنے کے مطالبات سامنے آ ئے ہیں مطالبہ کیا جارہا ہے کہ بی بی سی پر پابندی لگائی جائے ۔

editor

Related Articles