پنجاب حکومت نے آئندہ سال صوبہ بھر میں روایتی بسنت کا تہوار منانے کی اجازت دینے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس تہوار کو محفوظ اور منظم بنانے کے لیے باقاعدہ قانون سازی اور سخت حفاظتی ضوابط متعارف کرانے کی تیاری کی جارہی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق آئندہ سال جنوری کے آخری ہفتے میں پنجاب بھر میں منظم انداز میں بسنت کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس حوالے سے حکومت کی جانب سے نامزد مقامات اور تفصیلی قواعد و ضوابط کا اعلان جلد متوقع ہے۔
پتنگوں اور ڈور کی تیاری رواں سال اکتوبر سے شروع کر دی جائے گی، جبکہ مخصوص مقامات پر ہی پتنگ سازی کی اجازت دینے کے لیے ایک جامع انتظامی پلان بھی تیار کر لیا گیا ہے۔
قیمتوں کا کنٹرول اور حفاظتی ضوابط
حکومت نے پتنگوں اور ڈور کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے ایک خصوصی لائحہ عمل تشکیل دیا ہے تاکہ بسنت کے دوران شہریوں کو مقررہ نرخوں پر معیاری سامان باآسانی دستیاب ہو سکے۔
اس تہوار کے پرامن انعقاد کے لیے قانون سازی کی جارہی ہے جس میں پتنگ بازی سے متعلق تمام حفاظتی اقدامات اور ضوابط کو قانونی شکل دی جائے گی۔
لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں بسنت کو ہمیشہ سے بہار کی آمد کا استقبالیہ تہوار سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاہم، کیمیائی اور دھاتی ڈور کے استعمال کے باعث پیش آنے والے ناخوشگوار حادثات اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد ماضی میں اس تہوار پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
اب حکومت کی جانب سے اس روایتی تہوار کو ضوابط اور سخت حفاظتی تدابیر کے ساتھ بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ثقافتی بحالی اور انتظامی چیلنجز
پنجاب بھر میں بسنت کی بحالی کا فیصلہ ایک طرف جہاں ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ اور سیاحت کے لیے خوش آئند ہے، وہیں دوسری طرف انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی ہے۔
ماضی کے تلخ تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ حفاظتی ضوابط پر سختی سے عملدرآمد ہو۔
اگر نامزد مقامات اور قیمتوں کے کنٹرول کے پلان پر دیانت داری سے عمل کیا گیا تو یہ تہوار نہ صرف عوام کے لیے تفریح کا بہترین ذریعہ بنے گا بلکہ اس سے معاشی سرگرمیوں کو بھی جلا ملے گی۔