وزیراعظم کے مشیر خصوصی سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے 99 فیصد عوام محب وطن ہیں، جبکہ صرف 1 سے ڈیڑھ فیصد عناصر امن و امان خراب کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی اور دیگر نشستوں پر کامیابی کے بعد پارٹی کی نشستیں 36 تک پہنچنے کی امید ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ خصوصی نشستوں کے بعد مسلم لیگ ن کو 2 تہائی اکثریت حاصل ہو جائے گی اور نئی حکومت خطے کی محرومیوں کے خاتمے پر توجہ دے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج کو مسلم لیگ ن کے لیے اہم سیاسی کامیابی قرار دیا اور پارٹی کو مینڈیٹ دینے پر آزاد کشمیر کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں 25 نشستوں پر کامیاب ہو چکی ہے، جبکہ دیگر نشستوں پر ابھی انتخابی عمل مکمل ہونا باقی ہے۔
ان کے بقول توقع ہے کہ پارٹی کی مجموعی نشستوں کی تعداد 36 تک پہنچ جائے گی، جس کے بعد خصوصی نشستوں کی تقسیم کے نتیجے میں مسلم لیگ ن کو 2 تہائی اکثریت بھی حاصل ہو جائے گی۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات مرحلہ وار منعقد ہوئے۔ پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کے 13 حلقوں میں مسلم لیگ ن نے 9 نشستیں حاصل کیں جبکہ پیپلز پارٹی 4 نشستوں پر کامیاب رہی، جس سے انتخابی دوڑ میں ن لیگ کی ابتدائی پوزیشن واضح ہوگئی تھی۔
آزاد کشمیر کا خطہ اپنی جغرافیایی اور سیاسی اہمیت کے لحاظ سے انتہائی حساس مانا جاتا ہے جہاں ماضی میں بھی ترقیاتی کاموں اور محرومیوں کے خاتمے پر طویل بحثیں ہوتی رہی ہیں۔
ن لیگ کی قیادت کا ماننا ہے کہ خطے کی پسماندگی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ایک مستحکم اور بھاری مینڈیٹ والی حکومت کی ضرورت تھی۔ اسی تناظر میں رانا ثنا اللہ نے آزاد کشمیر کے غیور عوام سے پختہ وعدہ کیا ہے کہ ان کی تمام محرومیوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے گا۔
’99 فیصد کشمیری محب وطن ہیں’
رانا ثنا اللہ نے آزاد کشمیر کی مجموعی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے 99 فیصد لوگ محب وطن ہیں اور پاکستان کے ساتھ ان کی وابستگی پر کوئی سوال نہیں۔ ان کے مطابق صرف 1 سے ڈیڑھ فیصد لوگ ایسے ہیں جو امن خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انتخابی عمل کے دوران بعض علاقوں میں امن و امان، احتجاج اور سیاسی کشیدگی کے مسائل بھی سامنے آتے رہے۔
انتخابی مراحل کے دوران بعض حلقوں میں پولنگ متاثر ہوئی، جبکہ ایک نشست پر خراب موسم اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پولنگ ملتوی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
اس تناظر میں رانا ثنا اللہ کا پیغام دراصل یہ تاثر مضبوط کرنے کی کوشش بھی ہے کہ انتخابی سیاسی اختلاف کو آزاد کشمیر کی مجموعی قومی وابستگی سے الگ رکھا جائے۔
ان کے بیان میں ایک طرف عوام کو سیاسی طور پر سراہا گیا، تو دوسری طرف امن و امان خراب کرنے والے عناصر کو محدود دائرے تک رکھنے کا دعویٰ کیا گیا۔
ایل اے 14 کا فیصلہ بھی قبول کرنے کا اعلان
مسلم لیگ ن کے لیے اہم سمجھے جانے والے حلقہ ایل اے 14 کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عوام نے جو فیصلہ دیا، اسے قبول کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حلقے میں مسلم لیگ ن کے امیدوار راجہ فیصل تھے، جبکہ ساجد اقبال بھی سیاسی طور پر اہم کردار رکھتے ہیں۔ ان کے بقول دونوں ‘بھائی بن کر’ حلقے کے عوام کی محرومیوں کو دور کرنے کے لیے کام کریں گے۔
یہ بیان اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ انتخابی مقابلے کے بعد جماعتوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج سیاسی اختلاف کو انتخابی نتائج سے آگے بڑھنے سے روکنا ہوتا ہے۔ رانا ثنا اللہ نے اسی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے سیاسی مفاہمت اور مشترکہ طور پر عوامی مسائل حل کرنے کا تاثر دیا۔
ن لیگ کا حکومت سازی پر اعتماد
رانا ثنا اللہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی۔ ان کے مطابق انتخابات کے مختلف مراحل میں پارٹی کی کارکردگی نے حکومت سازی کے لیے بنیاد فراہم کردی ہے۔
حکومت سازی کے حتمی نقشے کا انحصار تمام انتخابی مراحل کے سرکاری نتائج، مخصوص نشستوں کی تقسیم اور اسمبلی میں ارکان کی حتمی تعداد پر ہوگا۔
اسی لیے رانا ثنا اللہ کا 36 نشستوں تک پہنچنے کا دعویٰ فی الحال ایک سیاسی توقع کے طور پر دیکھا جائے گا، جب تک مکمل سرکاری اعداد و شمار سامنے نہ آجائیں۔
بھاری مینڈیٹ کا مطالبہ کیوں اہم ہے؟
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر کی پسماندگی دور کرنے کے لیے مسلم لیگ ن کو بھاری مینڈیٹ ملنا ضروری تھا۔ انہوں نے عوام سے وعدہ کیا کہ ان کی محرومیوں کو دور کیا جائے گا۔
یہاں انتخابی کامیابی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ آزاد کشمیر میں حکومت کے لیے صرف اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ سڑکوں، صحت، تعلیم، روزگار، سیاحت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے جیسے مسائل پر عملی پیش رفت بھی ضروری ہوگی۔
کامیابی کے بعد اصل امتحان شروع
سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو رانا ثنا اللہ کا بیان صرف انتخابی نتائج پر اطمینان کا اظہار نہیں بلکہ آنے والی حکومت کے سیاسی بیانیے کی سمت بھی متعین کرتا ہے۔ مسلم لیگ ن اب انتخابی کامیابی کو حکومتی مینڈیٹ میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
36 نشستوں کا ہدف اس لیے اہم ہے کہ اس سے پارٹی کو مضبوط حکومت بنانے کی پوزیشن مل سکتی ہے۔ اگر خصوصی نشستوں سمیت مطلوبہ اکثریت حاصل ہوگئی تو حکومت کو قانون سازی، بجٹ اور انتظامی فیصلوں میں نسبتاً زیادہ سیاسی استحکام میسر آئے گا۔
لیکن دوسری طرف بھاری اکثریت حکومت کو جواب دہی سے آزاد نہیں کرتی۔ اس کے برعکس بڑی اکثریت کے ساتھ عوامی توقعات بھی بڑھ جاتی ہیں۔ آزاد کشمیر کے عوام اب انتخابی وعدوں کے بجائے عملی نتائج دیکھنا چاہیں گے۔
امن و امان اور سیاسی مفاہمت کا چیلنج
رانا ثنا اللہ کی جانب سے 99 فیصد عوام کو محب وطن قرار دینا اور امن خراب کرنے والے عناصر کو محدود تعداد تک بیان کرنا بھی سیاسی طور پر اہم ہے۔
اس سے حکومت کی جانب سے یہ پیغام دینے کی کوشش نظر آتی ہے کہ اختلاف رائے اور احتجاج کو مجموعی قومی وابستگی کے خلاف تصور نہیں کیا جانا چاہیے، تاہم امن و امان کی حدود بھی برقرار رہنی چاہئیں۔
آنے والی حکومت کے لیے بہتر راستہ یہی ہوگا کہ سیاسی مخالفین، مقامی قیادت اور عوامی نمائندوں کو ساتھ لے کر مسائل حل کیے جائیں۔
خاص طور پر ایسے خطے میں جہاں عوامی جذبات، علاقائی شناخت اور معاشی محرومی جیسے عوامل سیاست پر گہرا اثر رکھتے ہیں، صرف انتظامی طاقت کے بجائے سیاسی مکالمہ زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔