قوم کو مبارکباد ، پاکستان میں گیس کے نئے ذخائر مل گئے

قوم کو مبارکباد ، پاکستان میں گیس کے نئے ذخائر مل گئے

پاکستان میں توانائی کے شعبے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL) نے ضلع سجاول کے سرانی بلاک میں گیس کی نئی اور اہم دریافت کا اعلان کیا ہے کمپنی کے مطابق ڈولفن ایکس ون کنویں سے یومیہ تقریباً 9 لاکھ 50 ہزار اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس حاصل ہورہی ہے۔

پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو ارسال کیے گئے خط کے ذریعے اس اہم پیش رفت سے آگاہ کیا۔ کمپنی کے مطابق یہ دریافت لوئر انڈس بیسن کی چلتن فارمیشن سے ہونے والی پہلی دریافت ہے جسے ملکی توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

ڈولفن ایکس ون کنویں کی کھدائی

پی پی ایل کے مطابق سرانی بلاک کے ڈولفن ایکس ون کنویں پر کھدائی کا کام 17 اپریل 2026 کو شروع کیا گیا تھا۔ کنویں کو تقریباً 3 ہزار 850 میٹر گہرائی تک کھودا گیا، جس کے بعد ہائیڈرو کاربن کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔

کمپنی کے مطابق ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں اور کنویں سے گیس کی پیداوار شروع ہوچکی ہے۔ یومیہ ساڑھے 9 لاکھ اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس کی پیداوار ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں پرائمری تعلیم کا نظام تبدیل ، تاریخی فیصلہ ہوگیا

سرانی بلاک میں پی پی ایل کا بڑا حصہ

سرانی بلاک میں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ 75 فیصد حصص کے ساتھ آپریٹر ہے جبکہ جی ایچ پی اس منصوبے میں 25 فیصد حصص کے ساتھ شراکت دار ہے۔

پی پی ایل کے مطابق منصوبے کی کامیابی میں متعلقہ اداروں اور شراکت داروں کے تعاون نے اہم کردار ادا کیا۔ کمپنی نے بالخصوص پاکستان نیوی کے تعاون اور معاونت پر اظہار تشکر کیا ہے۔

آف شور توانائی کے امکانات روشن

ماہرین کے مطابق سجاول کے علاقے میں سمندر کے قریب دلدلی زمین اور ممکنہ طور پر کم گہرائی والے علاقے میں ہائیڈرو کاربن کی یہ دریافت ملکی آف شور ایکسپلوریشن کے لیے اہم پیش رفت ہے۔

پاکستان میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیل اور گیس کی مقامی پیداوار میں اضافہ ایک اہم ضرورت ہے۔ نئی دریافتوں سے نہ صرف مقامی گیس کی دستیابی بہتر ہوسکتی ہے بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سرانی بلاک میں ہونے والی یہ دریافت مستقبل میں پاکستان کے شیلو آف شور علاقوں میں مزید تلاش اور نئی دریافتوں کے امکانات کو بھی بڑھا سکتی ہے۔ اگر مزید کنوؤں میں بھی تجارتی پیمانے پر ہائیڈرو کاربن کے ذخائر دریافت ہوتے ہیں تو پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے اس کے مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

توانائی کے بحران سے نمٹنے کی کوششوں میں اہم پیش رفت

پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے گیس کی بڑھتی ہوئی طلب اور مقامی پیداوار میں کمی کے باعث درآمدی گیس پر انحصار کررہا ہے۔ ایسے میں مقامی سطح پر گیس کے نئے ذخائر کی دریافت توانائی کے تحفظ کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں پرائمری تعلیم کا نظام تبدیل ، تاریخی فیصلہ ہوگیا

پی پی ایل کی جانب سے سجاول میں نئی دریافت کو اسی تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم کسی بھی نئی دریافت کے مجموعی معاشی فوائد کا اندازہ اس کے ذخائر، پیداوار کی پائیداری، گیس کے معیار، پروسیسنگ اور قومی گیس نظام سے کامیاب انضمام کے بعد ہی مکمل طور پر لگایا جاسکے گا۔

پی پی ایل کے مطابق ڈولفن ایکس ون سے حاصل ہونے والے ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں اور کمپنی ملک کے دیگر ممکنہ علاقوں میں بھی ہائیڈرو کاربن کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔

سجاول میں ہونے والی یہ دریافت پاکستان کے لیے اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ ملک کے شیلو آف شور ایکسپلوریشن پوٹینشل کی جانب ایک نیا اشارہ فراہم کرتی ہے اور مستقبل میں سمندر سے متصل علاقوں میں مزید توانائی کے ذخائر تلاش کرنے کی راہ ہموار کرسکتی ہے

Qaisar Mirza
editor

Related Articles