موجودہ امریکا ایران کشیدگی کم کرنے میں پاکستان اور قطر اہم کردار ادا کر رہے ہیں، ایران

موجودہ امریکا ایران کشیدگی کم کرنے میں پاکستان اور قطر اہم کردار ادا کر رہے ہیں، ایران

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور قطر خطے میں موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے انتہائی اہم اور مثبت کردار ادا کر رہے ہیں، اور ایران ان دونوں ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ ایران کوئی ایسا ملک نہیں جو کسی بھی قسم کی ڈیڈ لائن یا بیرونی دباؤ کے تحت فیصلے کرے، اور مفاہمتی یادداشت میں نام نہاد 60 روزہ ڈیڈ لائن کی کوئی شرط شامل نہیں تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ایم او یو کی مدت صرف پابندیاں ختم کرنے اور جوہری مسئلے کے پرامن حل کے لیے مقرر کی گئی تھی۔

امریکا کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی

اسماعیل بقائی نے امریکی رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے ایم او یو کی خلاف ورزی کی گئی ہے جس کی وجہ سے تاحال باضابطہ مذاکرات کا آغاز نہیں ہو سکا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا کیساتھ مذاکرات کو جارحانہ سفارتکاری سمجھتے ہیں ، ایرانی سپیکر باقر قالیباف

ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کے محض چند ہفتوں بعد ہی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، جس سے امن کی کوششوں کو دھچکا لگا۔

آبنائے ہرمز اور عمان کے ساتھ مذاکرات

عمان کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ سلطنت عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے۔

عمان اور ایران بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے اور اس کے طریقہ کار کو بہتر کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کی ثابت قدمی نے ہمیشہ دشمن کے تمام تخمینوں اور اندازوں کو غلط ثابت کیا ہے۔

موجودہ سفارتی صورتحال

خطے میں جاری کشیدگی اور جوہری معاہدے کے حوالے سے ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین طویل عرصے سے ڈیڈ لاک چلا آ رہا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف عائد معاشی پابندیوں اور جوہری تنازع پر اسلام آباد اور دوحہ کی سفارتی سطح پر ثالثی کی کوششیں خطے کے امن کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔پاکستان اور قطر نے اس بحران کو ٹالنے کے لیے ہمیشہ تعمیری سفارت کاری کو فروغ دیا ہے۔

 خطے میں سفارتی حرکیات اور ایران کا مؤقف

ایرانی وزارت خارجہ کے یہ حالیہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔

پاکستان اور قطر کا بطور ثالث کردار ادا کرنا اس بات کا غماز ہے کہ مسلم ممالک خطے میں جنگ کے بجائے امن و استحکام کے خواہاں ہیں۔

دوسری جانب، امریکا کی مبینہ خلاف ورزیوں پر تہران کا سخت مؤقف اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں، البتہ سفارتی چینلز کے ذریعے راستے تلاش کرنے پر آمادہ ہے۔

Related Articles