بھارت میں جرائم پیشہ یا دہشت گرد گروہوں سے تعلق کے الزامات بے بنیاد ہیں، سینئر پاکستانی عہدیدار

بھارت میں جرائم پیشہ یا دہشت گرد گروہوں سے تعلق کے الزامات بے بنیاد ہیں، سینئر پاکستانی عہدیدار

پاکستان نے بھارت کے اندر سرگرم کسی بھی جرائم پیشہ یا دہشت گرد گروہ سے تعلق کے الزامات کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کے دعوے بھارت کی جانب سے اپنے حقیقی داخلی مسائل اور بیرونی محاذ پر پیش آنے والی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی ایک اور کوشش ہیں۔

ایک سینئر پاکستانی عہدیدار نے کہا کہ پاکستان ایسے تمام الزامات کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے جن میں اسے بھارت کے اندر کام کرنے والے کسی مجرمانہ یا دہشت گرد گروہ کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی ہو۔

پاکستان نے الزامات مسترد کردیے

سینئر پاکستانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مؤقف اس معاملے پر واضح ہے اور اسے بھارت کے اندر سرگرم کسی بھی جرائم پیشہ یا دہشت گرد گروہ سے منسلک کرنے کے الزامات قابل قبول نہیں۔

عہدیدار نے کہا کہ پاکستان ایسے دعووں کو بھارت کی جانب سے توجہ ہٹانے کی کوشش کے طور پر دیکھتا ہے،بھارت اس قسم کے الزامات کے ذریعے عوامی توجہ اپنے حقیقی داخلی مسائل اور بیرونی سطح پر پیش آنے والی ناکامیوں سے دوسری جانب منتقل کرنا چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان نے پہلگام واقعے سے متعلق بھارتی الزامات مسترد کر دیئے

بھارتی میڈیا رپورٹ پر تبصرے سے گریز

سینئر پاکستانی عہدیدار نے اس معاملے سے متعلق بھارتی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹ کی مخصوص تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے بھی گریز کیا،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی ایسی بھارتی میڈیا اسٹوری کی تفصیلات پر ردعمل دے کر اسے غیر ضروری اعتبار یا ساکھ فراہم نہیں کرنا چاہتا جس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

عہدیدار کے مطابق غیر مصدقہ رپورٹ میں شامل مخصوص دعووں یا جزئیات پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہوگا، اس لیے پاکستان نے بنیادی الزام کو مسترد کرتے ہوئے رپورٹ کی تفصیلات پر بات نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

الزامات توجہ ہٹانے کی کوشش

پاکستانی عہدیدار نے کہا کہ اس نوعیت کے الزامات کو وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے،یہ بھارت کی جانب سے داخلی معاملات اور بیرونی سطح پر درپیش مسائل سے عوامی توجہ ہٹانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

پاکستانی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ملک کے خلاف کسی غیر مصدقہ میڈیا رپورٹ میں سامنے آنے والے دعووں کو محض تفصیلی ردعمل دے کر اہمیت نہیں دی جائے گی۔

editor

Related Articles