پہلی بیوی کو چھوڑ کر دوسری شادی کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف بڑا فیصلہ

پہلی بیوی کو چھوڑ کر دوسری شادی کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف بڑا فیصلہ

بھارتی ریاست آسام کی حکومت نے پہلی بیوی کو قانونی طور پر طلاق دیے بغیر دوسری شادی کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف سخت اقدام کا اعلان کردیا۔

آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کے مطابق اگر کوئی سرکاری ملازم پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کرتا ہے تو اس کی تنخواہ میں کٹوتی کی جائے گی، جبکہ یہ رقم براہ راست پہلی بیوی کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔ حکومت کے مطابق پہلی بیوی کو مالی معاونت حاصل کرنے کے لیے متعلقہ حکام کے پاس درخواست دینا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:22 سال کی محنت، اکیلے شخص نے پہاڑ کا سینہ چیر دیا

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اگر طلاق کا مقدمہ عدالت میں زیر سماعت بھی ہو، تب بھی تنخواہ سے کٹوتی کا عمل جاری رہ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد قانونی کارروائی مکمل ہونے تک پہلی بیوی کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

آسام حکومت نے والدین کو نظر انداز کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف بھی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ ایسے ملازمین کی تنخواہ سے 10 فیصد کٹوتی کرکے والدین کی مالی معاونت کے لیے استعمال کی جائے گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد سرکاری ملازمین کو اپنی خاندانی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے سے روکنا اور متاثرہ افراد کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

editor

Related Articles